آئی این پی ویلتھ پی کے

وبائی بجٹ کی تیاری کا آغاز، سندھ حکومت نے مالی سال 26 کے نظرِثانی شدہ تخمینے طلب کر لیے،ویلتھ پاکستان

January 21, 2026

سندھ حکومت نے آئندہ صوبائی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں تمام صوبائی محکموں، خودمختار اداروں اور منسلک اداروں کو مالی سال 26 کے نظرِثانی شدہ تخمینے جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔یہ ہدایت نامہ آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ سازی کے عمل کے باقاعدہ آغاز کی علامت ہے۔ محکمہ خزانہ نے محکموں سے اخراجات، ممکنہ بچت اور رقوم کی ازسرِنو تقسیم سے متعلق تازہ اعداد و شمار طلب کیے ہیں تاکہ حقیقت پسندانہ تخمینے لگائے جا سکیں اور مالی منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جا سکے۔ محکموں کو مقررہ مدت کے اندر نظرِثانی شدہ اعداد و شمار جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ بجٹ سے قبل مشاورتی اجلاسوں سے پہلے ان معلومات کو یکجا کیا جا سکے۔نظرِثانی شدہ تخمینوں کے ذریعے حکومت موجودہ مالی سال کے دوران صوبے کی اصل مالی صورتحال کا جائزہ لے سکے گی جس کے لیے بجٹ میں مختص کی گئی رقوم کا عملی اخراجات سے موازنہ کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ سندھ کے ڈائریکٹر نوید احمد کے مطابق مہنگائی میں اضافے، ترقیاتی ضروریات اور مالی دبا کے تناظر میں یہ عمل خاص اہمیت رکھتا ہے۔نوید احمد نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نظرِثانی شدہ تخمینوں کا مقصد زمینی حقائق کو سامنے لانا ہے۔

ابتدائی بجٹ تخمینے کئی ماہ پہلے تیار کیے جاتے ہیں مگر سال کے دوران معاشی حالات، آمدن اور اخراجات کی ضروریات بدل جاتی ہیں۔ نظرِثانی شدہ تخمینے حکومت کو اپنی ترجیحات میں بروقت تبدیلی کا موقع دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اب تک کیے گئے اخراجات، موجودہ مالی سال کے بقیہ مہینوں کے لیے طے شدہ اخراجات اور مختلف مدات میں ممکنہ بچت کی تفصیلات فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں اخراجات اصل مختص رقوم سے بڑھنے کا امکان ہو وہاں اضافی فنڈز کے مطالبات کی ٹھوس وجوہات بھی پیش کی جائیں۔نوید احمد کے مطابق، سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے محکموں کو منصوبوں کی پیش رفت، مختص رقوم کے استعمال اور تاخیر کی وجوہات سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سست رفتار منصوبوں کے لیے آئندہ بجٹ میں رقوم کم ہو سکتی ہیں جبکہ تکمیل کے قریب منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔محکمہ خزانہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے اخراجات کے تازہ تخمینے بھی طلب کر رہا ہے کیونکہ یہ صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔

مہنگائی میں اضافے اور تنخواہوں میں وقتا فوقتا نظرِثانی کے باعث یہ اخراجات اکثر ابتدائی اندازوں سے بڑھ جاتے ہیں جس سے صوبائی خزانے پر دبا پڑتا ہے۔اخراجات کے علاوہ صوبائی حکومت موجودہ مالی سال میں محصولات کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ صوبائی ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات جمع کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سال کے اختتام تک متوقع آمدن اور اب تک کی وصولیوں کی بنیاد پر نظرِثانی شدہ اہداف فراہم کریں۔ نوید احمد کے مطابق یہ جائزہ آئندہ بجٹ کے حجم اور ساخت کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نظرِثانی شدہ تخمینے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کی بنیاد بنیں گے۔ معلومات کی تکمیل کے بعد محکمہ خزانہ متعلقہ محکموں کے ساتھ اندرونی اجلاس منعقد کرے گا تاکہ مجوزہ رقوم کو حتمی شکل دی جا سکے جن میں ترقیاتی اخراجات اور صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے سماجی شعبوں کی ترجیحات کے درمیان توازن پر خاص توجہ دی جائے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک