آئی این پی ویلتھ پی کے

حکومت کا 2030 تک قیمتی پتھروں میں 6 کروڑ ڈالر کی مقامی ویلیو ایڈیشن کا ہدف،ویلتھ پاکستان

January 21, 2026

وفاقی حکومت نے قومی پالیسی برائے قیمتی پتھروں کی صلاحیت سے استفادہ 202630 کے تحت 2030 تک قیمتی پتھروں کے شعبے میں 60 ملین ڈالر سے زائد کی مجموعی مقامی ویلیو ایڈیشن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس پالیسی میں ملک کے اندر کٹنگ، پالشنگ اور پراسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔وزارتِ صنعت و پیداوار کی تیار کردہ پالیسی دستاویز کے مطابق، پاکستان کے قیمتی پتھروں کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن کی سطح اب بھی کم ہیجہاں اندازا 30 سے 40 فیصد قیمتی پتھر خام حالت میں برآمد کر دیے جاتے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مقامی پراسیسنگ کی محدود صلاحیت کے باعث برآمدی یونٹ ویلیو کم رہتی ہے اور ملک کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ بیرونِ ملک پراسیس کیے گئے قیمتی پتھر عالمی منڈی میں زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔پالیسی کے مطابق ناکافی ابتدائی پراسیسنگ اور فِنشنگ کے باعث پاکستان کو برآمدی مالیت میں 25 سے 50 فیصد تک اضافے سے محرومی کا سامنا ہے۔

اس کی وجوہات میں پرانے کٹنگ اور پالشنگ آلات، تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی، کلسٹر سطح کے بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی اور خام قیمتی پتھروں اور پراسیسنگ مشینری کی درآمد پر پابندیاں شامل ہیں۔نئی پالیسی کے تحت، ویلیو ایڈیشن کو قیمتی پتھروں کے شعبے کو ایک مسابقتی اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ پالیسی میں مقامی سطح پر کٹنگ، پالشنگ اور ٹریٹمنٹ کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تاکہ ویلیو چین کا بڑا حصہ پاکستان میں ہی برقرار رکھا جا سکے۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ویلیو ایڈیشن کو مثر بنانے کے لیے دیگر اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں گی جن میں قیمتی پتھروں کے کاروبار کو صنعتی درجہ دینا، مالی وسائل تک بہتر رسائی اور مشینری و آلات کی درآمد پر زرمبادلہ کی پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد جدید پراسیسنگ سہولیات میں سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

پالیسی کے مطابق، کلسٹر سطح کے بنیادی ڈھانچے اور مشترکہ سہولتی مراکز کے قیام کے ذریعے بھی مقامی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے گا تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مشترکہ پراسیسنگ، جانچ اور تربیتی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ کلسٹرنگ بڑے پیمانے کی معیشت اور معیار میں یکسانیت کے لیے نہایت ضروری ہے۔پالیسی میں سرٹیفیکیشن اور ویلیوایشن کے نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مضبوط سرٹیفیکیشن نظام کی عدم موجودگی کے باعث پراسیس شدہ قیمتی پتھروں کو عالمی منڈی میں مکمل پذیرائی نہیں ملتی جس سے اعلی معیار کی کٹنگ اور فِنشنگ میں سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، سرٹیفیکیشن اور قیمت کے تعین کے نظام کو ویلیو ایڈیشن کے اقدامات کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ عالمی منڈی میں اعتماد حاصل کیا جا سکے۔دستاویز کے مطابق، مقامی پراسیسنگ کی صلاحیت میں اضافہ ویلیو چین میں ضیاع کو بھی کم کرنے میں مدد دے گا۔ کان کنی اور پراسیسنگ دونوں مراحل میں زیادہ ضیاع کے باعث فی یونٹ لاگت بڑھ جاتی ہے۔ بہتر مہارتیں، جدید آلات اور مثر پراسیس کنٹرول سے مواد کی بہتر ریکوری اور معیار میں تسلسل متوقع ہے۔

مقامی وسائل کے علاوہ، پالیسی میں خام قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور دوبارہ برآمد کے لیے درآمد پر پابندیوں میں نرمی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اور تھائی لینڈ جیسے ممالک نے درآمد شدہ پتھروں کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے بڑی برآمدی صنعتیں قائم کی ہیں۔ باضابطہ اور قانونی درآمدی نظام سے مقامی پراسیسرز کو خام مال کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔پالیسی کے مطابق، 60 ملین ڈالر کی ویلیو ایڈیشن کا ہدف روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مہارتوں کی ترقی اور برآمدات میں اضافے جیسے وسیع تر مقاصد سے منسلک ہے۔ زیادہ پراسیسنگ سرگرمیاں پاکستان منتقل کر کے حکومت روزگار میں اضافہ، برآمدی آمدن میں بہتری اور قیمتی پتھروں کے شعبے کی مجموعی مسابقت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ہدف کی پیش رفت پر پالیسی کے نفاذ کے فریم ورک کے تحت مسلسل نظر رکھی جائے گی جس کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور صنعت سے وابستہ فریقین کے ساتھ مسلسل مشاورت کی جائے گی تاکہ عملی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک