وفاقی حکومت نے قومی پالیسی برائے قیمتی پتھروں کی صلاحیت سے استفادہ 202630 کے تحت قیمتی پتھروں کی عارضی برآمدات کے لیے واپسی اور رقم کی واپسی کا ایک باقاعدہ فریم ورک تجویز کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد برآمدکنندگان کو درپیش طریقہ کار سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنا اور باضابطہ تجارتی ذرائع کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔وزارتِ صنعت و پیداوار کی تیار کردہ پالیسی دستاویز کے مطابق قیمتی پتھروں کے برآمدکنندگان کو اکثر سرٹیفکیشن، نمائش، خریدار کے معائنے اور سیمپلنگ جیسے مقاصد کے لیے اپنی کھیپیں عارضی طور پر بیرونِ ملک بھیجنا پڑتی ہیں۔ تاہم واضح ضابطہ جاتی نظام نہ ہونے کے باعث ایسی کھیپوں کی واپسی پر برآمدکنندگان کو ڈیوٹی، ٹیکس اور تاخیر جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ واپس آنے والے قیمتی پتھروں کو اکثر نئی درآمد سمجھ لیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کسٹمز ڈیوٹیز اور ٹیکس عائد ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ پتھر اصل میں پاکستان ہی سے برآمد کیے گئے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ معیاری دستاویزات کی عدم موجودگی کے باعث برآمدکنندگان کو بینکاری ذرائع سے خریداروں کو برآمدی رقم واپس کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ان مسائل کے حل کے لیے پالیسی میں عارضی برآمدات، واپس آنے والے قیمتی پتھروں کی ڈیوٹی فری دوبارہ درآمد اور برآمدی رقوم کی واپسی پر مشتمل ایک واضح فریم ورک تجویز کیا گیا ہے۔
اس فریم ورک پر عمل درآمد نیشنل وارنٹی آفس، پاکستان کسٹمز اور مجاز بینکوں کے باہمی تعاون سے کیا جائے گا۔مجوزہ نظام کے تحت عارضی طور پر برآمد کی جانے والی قیمتی پتھروں کی کھیپوں کو برآمد کے وقت بیچ شناخت اور سرٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ واپسی کی صورت میں نیشنل وارنٹی آفس برآمدی ریکارڈ کے ساتھ کھیپ کی تصدیق کرے گا تاکہ اصلیت کی جانچ ہو سکے اور رد و بدل کو روکا جا سکے۔پالیسی میں واپسی کی تصدیق، دوبارہ داخلے کے سرٹیفکیٹس کے اجرا اور برآمدی رقوم کی مفاہمت کے لیے ایک منظم طریقہ کار بھی بیان کیا گیا ہے۔ مجاز بینک تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر رقم کی واپسی پر کارروائی کریں گے جبکہ مقررہ مدت کے اندر دوبارہ درآمد کی صورت میں برآمدکنندگان ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی واپسی کے بھی اہل ہوں گے۔دستاویز کے مطابق، یہ فریم ورک عالمی تجارتی تنظیم اور جی اے ٹی ٹی کے قواعد و ضوابط سے ہم آہنگ ہوگا اور شفافیت و کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ تر الیکٹرانک شواہد پر انحصار کیا جائے گا۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ واپسی اور رقم کی واپسی کے اس فریم ورک کے نفاذ سے برآمدکنندگان کے خطرات کم ہوں گے، خریداروں کا اعتماد بڑھے گا اور کھیپوں کی غیر رسمی راستوں سے منتقلی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے مجوزہ قانونی اتھارٹی کے تحت ایک خصوصی ریٹرن اینڈ ریفنڈ سیل قائم کیا جائے گا جو ریکارڈ کی دیکھ بھال اور باہمی رابطے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک