آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان میںفی کس گندم کا استعمال کم ہو کر 6.6 کلو، دودھ کا استعمال 6.2 لیٹر تک پہنچ گیا: ویلتھ پاکستان

January 14, 2026

پاکستان میں گھریلو خوراک کے استعمال کے انداز میں واضح تبدیلی آ رہی ہے۔ خوراک کی پسند اور مقدار میں یہ تبدیلیاں بدلتے ہوئے طرزِ زندگی اور کھانے پینے کی عادات کو ظاہر کرتی ہیں۔ ہاوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق فی کس ماہانہ گندم اور آٹے کا استعمال کم ہو کر 6.59 کلو گرام رہ گیا ہے جو پچھلے سروے میں 7.0 کلو گرام تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی بنیادی خوراک پر انحصار آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے۔ اسی طرح چاول کا استعمال بھی کم ہو کر فی کس ماہانہ 0.86 کلو گرام رہ گیا ہے جبکہ پہلے یہ 1.06 کلو گرام تھاجو گھریلو غذائی ترتیب میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔دالوں کے استعمال میں بھی کمی آئی ہے۔ فی کس استعمال 0.35 کلو گرام سے کم ہو کر 0.26 کلو گرام ہو گیا ہے جس کی وجہ قیمتوں میں اضافہ اور خوراک کی ترجیحات میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس دودھ کا استعمال نسبتا مستحکم رہا۔ اوسط ماہانہ دودھ کا استعمال 6.15 لیٹر ریکارڈ کیا گیاجو پہلے 6.85 لیٹر تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دودھ اب بھی گھریلو خوراک کا اہم حصہ ہے۔سروے کے مطابق پروٹین کے کچھ ذرائع کے استعمال میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ گائے کے گوشت کا استعمال 0.19 کلو گرام سے کم ہو کر 0.11 کلو گرام رہ گیاجبکہ مرغی کا گوشت 0.36 کلو گرام سے کم ہو کر 0.34 کلو گرام فی کس ماہانہ ہو گیا۔

انڈوں کا استعمال بھی معمولی کم ہوا اور فی کس ماہانہ 3.04 سے کم ہو کر 2.83 انڈے رہ گیا۔سبزیوں کے استعمال میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ پیاز کا استعمال 0.95 کلو گرام سے کم ہو کر 0.85 کلو گرام ہو گیاجبکہ ٹماٹر کا استعمال 0.51 کلو گرام سے بڑھ کر 0.59 کلو گرام ہو گیا۔ اس سے خوراک کی پسند اور موسمی دستیابی میں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ آلو کا استعمال تقریبا مستحکم رہا اور فی کس ماہانہ 1.17 کلو گرام کے قریب رہا۔سروے میں کھانا پکانے کے تیل کے استعمال میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ فی کس استعمال 0.32 لیٹر سے کم ہو کر 0.28 لیٹر رہ گیا ہے جو گھریلو کھانے کے انداز میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ایچ آئی ای ایس 2024-25 کے مطابق خوراک کے استعمال میں یہ تبدیلیاں آمدنی کی سطح، خوراک کی قیمتوں اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار غذائی رجحانات اور صارفین کے رویوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں اور مستقبل کی غذائی تحفظ اور غذائیت سے متعلق منصوبہ بندی کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ گھریلو خوراک کے انداز بھی بدل رہے ہیںجس سے غذائیت اور صحتِ عامہ کی پالیسیوں کے لیے خوراک کے استعمال کی نگرانی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک