آئی این پی ویلتھ پی کے

نئی پالیسی کے تحت قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے لئے درآمد کی اجازت دینے کی تجویز،ویلتھ پاکستان

January 21, 2026

وفاقی حکومت نے نئی پالیسی کے تحت قیمتی پتھروں کی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز دی ہے تاکہ انہیں پاکستان میں پراسیس کر کے دوبارہ برآمد کیا جا سکے۔ یہ اقدام قومی پالیسی برائے قیمتی پتھروں کی صلاحیت سے استفادہ 202630 کے تحت کیا جا رہا ہیجس کا مقصد ان ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے جو اب تک مقامی پراسیسنگ کی صلاحیت میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے تیار کردہ پالیسی دستاویز کے مطابق پاکستان میں قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے شعبے کو مناسب خام مال کی مسلسل فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں۔ اس کی وجوہات میں موسمی بنیادوں پر کان کنی، غیر رسمی تجارت اور موجودہ زرمبادلہ قوانین شامل ہیں۔پالیسی میں زرمبادلہ مینوئل کے باب 18 کی شق 16 کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے تحت قیمتی پتھروں کی درآمد کو برآمدات کی مالیت کے برابر ہونا لازم ہے۔ اس شرط کی وجہ سے پراسیسنگ کے لیے خام قیمتی پتھروں کی باضابطہ درآمد کی حوصلہ شکنی ہوتی رہی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت وزارتِ صنعت و پیداوار، اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کے بعد، ایسے اقدامات متعارف کرائے گی جن سے قیمتی پتھروں کی باضابطہ درآمد اور ویلیو ایڈیشن میں سہولت پیدا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ سے وابستہ کاروباروں کو ایکسپورٹ فیسلی ٹیشن اسکیم (ایس آر او 957(I)/2021) کے تحت سہولت فراہم کی جائے گی۔پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اور تھائی لینڈ جیسے ممالک نے درآمد شدہ قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے ذریعے بڑی برآمدی صنعتیں قائم کی ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی طرز کا نظام متعارف کرانے کا مقصد مقامی پراسیسرز کو خام مال کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانا ہے۔دستاویز کے مطابق نظرثانی شدہ نظام کے تحت قیمتی پتھروں کی درآمد کی اجازت صرف ان کاروباروں کو دی جائے گی جو مجوزہ قانونی اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گیتاکہ باضابطہ نظام اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کو فروغ دیا جا سکے۔پالیسی کے مطابق پراسیسنگ کے لیے درآمد میں نرمی سے مقامی کٹنگ اور پالشنگ یونٹس کو فروغ ملے گا، پیداواری صلاحیت بہتر ہوگی اور علاقائی ویلیو چینز میں پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک