آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان میںانٹرنیٹ تک رسائی 70 فیصد ، اسمارٹ فون استعمال 96 فیصد ہو گیا: ویلتھ پاکستان

January 14, 2026

پاکستان میں ڈیجیٹل رابطے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گھروں میں انٹرنیٹ تک رسائی بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی ہے جبکہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی شرح 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ہاوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق گھریلو سطح پر انٹرنیٹ استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو پچھلے سروے میں 34 فیصد تھا۔ یہ اضافہ انٹرنیٹ سہولتوں کے پھیلاو، موبائل براڈ بینڈ کی آسان دستیابی اور رابطے، معلومات اور مختلف خدمات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔انفرادی سطح پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی شرح 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب آن لائن تعلیم، ای کامرس، ڈیجیٹل بینکاری اور سرکاری خدمات سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔صوبائی اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل رسائی میں فرق بھی دیکھا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گھریلو انٹرنیٹ استعمال سب سے زیادہ 77 فیصد رہاجبکہ سندھ میں یہ شرح سب سے کم 67 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسمارٹ فون کے استعمال کے حوالے سے بلوچستان میں سب سے زیادہ 98 فیصد افراد اسمارٹ فون استعمال کر رہے ہیںجبکہ سندھ میں یہ شرح 95 فیصد رہی۔سروے میں ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے صنفی فرق کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ مردوں میں موبائل فون کا استعمال خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جبکہ خواتین میں موبائل استعمال کرنے والوں کی شرح 31 فیصد ہے۔ اس کی وجوہات میں قیمتیں، ڈیجیٹل تعلیم کی کمی اور سماجی رکاوٹیں شامل ہیں تاہم پچھلے برسوں کے مقابلے میں بہتری ضرور آئی ہے۔ایچ آئی ای ایس 2024-25 کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیجیٹل نظام تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن سہولتوں میں اضافہ اور موبائل ٹیکنالوجی کی سستی دستیابی نے اس عمل کو تیز کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل رسائی تعلیم، مالی خدمات اور معاشی مواقع تک رسائی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک