i پاکستان

سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی بشری بی بی کی قیدِ تنہائی اور امتیازی سلوک کے الزامات کی تردید، تحریری جواب جمع کرادیاتازترین

August 06, 2026

سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بشری بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کئے جانے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مبشرہ مانیکا کی درخواست پر اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہاگیاہے کہ اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی بشمول بشری بی بی، کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا اور انہیں قانون و جیل رولز کے مطابق دیگر قیدیوں کی طرح سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، انہیں سزا ہو چکی وہ قانون کے مطابق قید کاٹ رہی ہیں،ان کے ساتھ دوسرے قیدیوں کی طرح ہی قانونی سلوک کیا جا رہا ہے، ان کے ساتھ کوئی امتیازی یا غیرمساوی برتائو نہیں کیا جا رہا۔سپریٹنڈنٹ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق بشری بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، اس لئے ان کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ اضافی انتظامات کیے گئے ہیں، عام خواتین قیدیوں کو ان تک رسائی نہیں دی جاتی تاکہ ان کی حفاظت اور سلامتی متاثر نہ ہو،قید تنہائی کے درخواست گزار کے الزام کے برعکس ان کی والدہ کو سہولیات حاصل ہیں،وہ جیل کے اس احاطے میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتی ہیں جس میں ایک بڑا کمرہ، الگ صحن اور علیحدہ باورچی خانہ ہے، وہ دن بھر آزادانہ گھوم سکتی ہیں جبکہ رات کے مقررہ اوقات میں قواعد کے مطابق کمرہ بند کیا جاتا ہے۔

سپریٹنڈنٹ جیل کے مطابق بشری بی بی کی نگرانی خواتین جیل افسران اور عملہ کرتا ہے جن سے وہ روزمرہ ضروریات کیلئے بات چیت کرتی رہتی ہیں،خواتین افسران ان کی بات سنتی ہیں اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو متعلقہ حکام تک بھی پہنچاتی ہیں،جیل کی خاتون میڈیکل آفیسر روزانہ کم از کم دو مرتبہ ان کے کمرے میں آ کر معائنہ کرتی ہیں،ان کی خوراک چیک کی جاتی ہے بلڈ پریشر وغیرہ سمیت ضروری طبی علامات کا جائزہ لیا جاتا ہے،ضرورت پڑنے پر بشری بی بی کا خصوصی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے، ایڈیشنل سپریٹنڈنٹ اور لیڈی ڈپٹی سپریٹنڈنٹ بھی معمول میں ان کی قید کی جگہ کا دورہ کرتی ہیں باقاعدگی سے ملاقات اور گفتگو کرتی رہتی ہیں۔ سپریٹنڈنٹ جیل کے مطابق بشری بی بیکیلئے دو خواتین ہر وقت تعینات ہیں جو مقررہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتی ہیں،یہی خواتین بشری بی بی کی روزمرہ ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہیں اور تقریبا پورا دن ان کے ساتھ موجود رہتی ہیں،بشری بی بی کو قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی سہولت بھی حاصل ہے،ان کوصبح لاک اپ کھلنے سے لے کر شام لاک اپ بند ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے،

وہ دن بھر اپنی مرضی سے جیل رولز کے مطابق کچھ بھی کر سکتی ہیں، ان کی حراست کی جگہ محفوظ اور پرامن ہے جہاں جیل کا عملہ مناسب انتظامات کے ساتھ تعینات ہے،سپریٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ کے مطابق بشری بی بی کو جیل مینوئل کے مطابق ہر منگل اپنے شوہر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت بھی حاصل ہے، ان کی حراستی اور رہائشی سہولیات مناسب اور اطمینان بخش ہیں،ان کو قید تنہائی میں رکھنے کا کوئی عنصر موجود نہیں لہذا یہ تاثر بے بنیاد ہے،اڈیالہ جیل یا پاکستان کی کسی بھی جیل نظام میں ایسی تنہائی کی قید کا کوئی وجود نہیں،ان کو قید تنہائی میں رکھنے کے حوالے سے اعتراضات محض مفروضوں پر مبنی ہیں حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ سپریٹنڈنٹ جیل کی جانب سے استدعاکی گئی ہے کہ بشری بی بی کی بیٹی کی درخواست بے بنیاد قرار دے کر مسترد کی جائے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی