بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر پی ٹی آئی اور ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ، پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر اور ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں کروایا جائے۔جمعے کے روز سے شروع ہونے والے اس احتجاج میں دو درجن سے زائد ارکان پارلیمنٹ موجود ہیں جنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہائو س کے احاطے تک ہی محدود کیا ہوا ہے۔دھرنے میں شریک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ بانی تحریک انصاف کی اسپتال منتقلی تک نہیں اٹھیں گے، بانی پی ٹی آئی کو فوری اور بلاتاخیر اسپتال منتقلی کیا جائے۔ پارلیمنٹ ہائوس میں دونوں ایوانوں کے اپوزیشن لیڈرز کی قیادت میں ارکان دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں اور انھوں نے 24 گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا۔انھوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار باہر سے کھانے پینے کی اشیا اندر نہیں لانے دے رہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے پارلیمنٹ ہائوس میں موجود کیفے ٹیریا کے سٹاف کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے
کیونکہ کیفے ٹیریا میں نہ تو سٹاف ہے اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں۔پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کے پاس جو بسکٹ وغیرہ پڑے تھے وہ بھی ختم ہو گئے ہیں۔دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہائو س کو دونوں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے اور پارلیمنٹ ہائوس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دئیے ہیں۔ڈیوٹی پر جانے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ ملازمین کے لئے ایک چھوٹا دروازہ کھولا گیا ہے اور جامہ تلاشی کے بعد انھیں اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ملازمین کی جامہ تلاشی کے دوران ان کے موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے اور اس وقت واپس کیے گئے جب وہ پارلیمنٹ ہائوس کی عمارت کے اندر داخل ہوئے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا ہائو س اسلام آباد کے باہر تحریک انصاف کا دھرنا اچانک ختم ہوگیا۔دھرنے کے شرکا باہر سڑک سے اٹھ کر خیبرپختونخوا ہائوس کے اندر چلے گئے۔ منسٹرز انکلیو، ججز کالونی اور پنجاب ہائوس جانے والے تمام راستے بھی کھول دئیے گئے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی