i پاکستان

میر واعظ مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کا یومِ شہادت عقیدت واحتر ام سے منایا گیاتازترین

May 21, 2026

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کشمیر میں تحریک آزادی جموں وکشمیر کے عظیم کشمیری رہنمائوں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کا یوم شہادت جمعرات کو عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ۔میر واعظ مولوی محمد فاروق کو اسی روز 1990 میں قابض بھارتی فورسز نے شہید کیا تھا، ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی، تاہم جنازے کے دوران بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 60 سے زائد کشمیری بھی شہید ہوگئے تھے۔ دوسری جانب میر واعظ کی برسی میں شرکت کے موقع پر 2002 میں خواجہ عبدالغنی لون کو بھی شہید کر دیا گیا تھا، جسے کشمیری عوام آج بھی تحریکِ آزادی کشمیر کا ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہیں۔اس موقع پر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف دونوں کشمیری رہنمائو ں اور دیگر شہدا کو زبردست انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ۔مختلف تقریبات، دعائیہ اجتماعات، ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا گیا ۔ مقررین کی جانب سے بھارت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کی مبینہ ریاستی دہشت گردی کے خلاف موثر اور عملی کردار ادا کریں۔مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے ۔

فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اس کے باوجود کشمیری عوام نے ریلیاں نکالیں اور احتجاجی مظاہر ے کئے گئے ۔دریں اثنا حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور کشمیری سماجی کارکن مشعال ملک نے کہا ہے کہ آج کا دن مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین ایام میں سے ایک ہے، جب کشمیری قیادت اور عوام کو ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑا۔مشعال ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میر واعظ محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی شہادت تحریکِ آزادی کا روشن باب ہے، جسے کشمیری عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ہوال بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدترین ثبوت ہے، جہاں نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا، کشمیری عوام کا جذب حریت آج بھی زندہ ہے اور وہ اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت آج بھی حقِ خودارادیت کی آواز سے خوفزدہ ہے، تاہم کشمیری عوام قربانیوں سے پیچھے ہٹنے والے نہیں، مشعال ملک کے مطابق کشمیری شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور آزادی کی جدوجہد ہر صورت جاری رہے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی