i پاکستان

لاہور ہائیکورٹ نے صرف سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر گرفتاری غیر قانونی قرار دیدیتازترین

July 22, 2026

لاہور ہائیکورٹ نے سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی گرفتاری غیر قانونی قرار دیدی، جسٹس طارق ندیم نے قرار دیا کہ صرف شک، زبانی اطلاع یا تاخیر سے دئیے گئے اضافی بیان کو گرفتاری کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق ندیم نے قتل کے مقدمے میں ملزم عمر فاروق عرف احتشام کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کیا، عدالت نے اس حوالے سے 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر کی حیثیت حاصل ہوگی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان سمیت دیگر اعلی پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے، عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نے اعتراف کیا کہ فوجداری قوانین میں سپلیمنٹری بیان کی کوئی الگ قانونی شق موجود نہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ بعض اوقات تفتیشی افسران شاطرانہ مقاصد کیلئے سپلیمنٹری بیانات کا سہارا لیتے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس کے سامنے کیا گیا اعترافِ جرم قانونا قابل قبول شہادت نہیں ہوتا، جبکہ محض سپلیمنٹری بیان یا تاخیر سے سامنے آنے والے بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو گرفتار کرنا قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ صرف سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔عدالت نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو حکم دیا کہ فیصلے کی نقل صوبے بھر کے تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز)، کیپیٹل سٹی پولیس افسران (سی پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز)کو بھجوائی جائے تاکہ اس فیصلے پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ سپلیمنٹری بیانات کی بنیاد پر ہونے والی گرفتاریوں کا سخت قانونی جائزہ لیا جائے اور فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ دو ہفتوں کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائے۔اس فیصلے کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ نے یہ اہم اصول طے کیا ہے کہ ابتدائی ایف آئی آر کے بعد محض سپلیمنٹری یا اضافی بیان، بغیر کسی آزاد اور مضبوط شہادت کے، کسی ملزم کی گرفتاری کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا، عدالت نے ایسے طرزِ عمل کو بنیادی حقوق کے تحفظ اور منصفانہ تفتیش کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی