i پاکستان

لاہور ہائیکورٹ، موٹروے اجتماعی زیادتی کیس میں سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے مجرمان کی اپیلیں مستردتازترین

July 22, 2026

لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے سنسنی خیز مقدمے میں مجرم عابد علی اور شفقت عرف بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈی این اے، میڈیکل اور فرانزک شواہد نے ملزمان کے جرم کو بلا شبہ ثابت کر دیا ہے۔جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ متاثرہ خاتون کا بیان نہایت اہم اور قابل اعتماد شہادت ہے، جس کی تائید میڈیکل، فرانزک اور دیگر سائنسی شواہد سے بھی ہوتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈی این اے رپورٹ سے مجرم عابد علی کا جرم ثابت ہوا، جبکہ گاڑی سے حاصل کیے گئے خون کے نمونوں کا ڈی این اے بھی ملزم سے مطابقت رکھتا ہے، فیصلے کے مطابق فرانزک شواہد نے استغاثہ کے مقدمے کو مزید مضبوط بنایا اور شناخت پریڈ کے دوران دونوں ملزمان کی درست شناخت بھی ہوئی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان نے خاتون اور اس کے بچوں کو زبردستی گاڑی سے نکال کر سنگین جرم کا ارتکاب کیا، جو نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بنا، عدالت نے قرار دیا کہ ایسے گھنائونے جرم میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت جرم کی نوعیت اور سنگینی کے عین مطابق ہے، اس لیے اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں، عدالت نے ریاست کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیل بھی مسترد کرتے ہوئے مجرمان کو دی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی