i پاکستان

ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں ردوبدل سے متعلق حکومتی درخواست پر نیپرا کی سماعت مکمل ،فیصلہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائیگاتازترین

February 11, 2026

ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں ردوبدل سے متعلق حکومتی درخواست پر نیپرا کی سماعت مکمل ہو گئی، فیصلہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائے گا۔پاور ڈویژن حکام کے مطابق فیصلے کے بعد انڈسٹری کا ٹیرف 4 روپے 4 پیسے کم ہو جائے گا، جبکہ پہلی بار بلنگ سائیکل میں صنعت پر عائد 101 ارب روپے کی کراس سبسڈی صفر ہو جائے گی۔رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت صنعتی سیکٹر گھریلو صارفین کو 101 ارب روپے کی کراس سبسڈی دے رہا ہے، کمرشل صارفین 90 ارب روپے اور جنرل سروسز صارفین 35 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں۔پاور ڈویژن حکام کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین نے مجموعی طور پر 35 ارب یونٹ بجلی پیدا کی، اگر یہ صارفین گرڈ پر ہوتے تو 3 روپے فی یونٹ کا فرق پڑتا۔حکام نے بتایا کہ ٹی ڈی ایس اور کراس سبسڈی کی مد میں اب بھی صارفین پر 614 ارب روپے سے زائد کا بوجھ ہے، جبکہ ٹیرف ڈیفرنشل کی مد میں بڑے صارفین پر 453 ارب روپے کا بوجھ موجود ہے۔  پاور ڈویژن کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ جس کا جو بوجھ ہے اسی پر ڈالنے کا فیصلہ کیا جائے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ فکسڈ چارجز کو 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 94 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

پاور ڈویژن حکام کے مطابق ملک میں انڈسٹری کا پہیہ چلانے کے لئے ٹیرف میں کمی ناگزیر ہے، اس وقت خطے میں پاکستان کا صنعتی ٹیرف سب سے زیادہ ہے۔ ٹیرف ری اسٹرکچرنگ کے بعد انڈسٹری کا ریٹ ساڑھے 11 سینٹ تک آئے گا، جبکہ تین سالہ پیکج سے فائدہ اٹھانے کی صورت میں یہ ساڑھے 10 سینٹ تک آ جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ جب انرجی کی ضرورت تھی تو اس وقت سولر کا فیصلہ درست تھا، نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی، اور نیٹ میٹرنگ اور سولر کی پالیسی پہلے بھی غلط نہیں تھی۔حکومت کی جانب سے ماہانہ 300 اور 700 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی سستی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز لگانے کی تجویز ہے، جبکہ فکسڈ چارجز پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں صارفین پر عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے قبل صرف 300 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز عائد ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی