i پاکستان

یہ سچ ہے کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے ٹیکس یا انرجی قیمت زیادہ ہے، وزیر خزانہتازترین

January 14, 2026

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں اور ہمیں تسلیم کرناچاہیے کہ ٹیکس زیادہ ہے یاانرجی قیمت زیادہ ہے تو یہ حقیقی مسائل ہیں، معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے،پاکستان کو 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لئے آبادی پرقابو پانا ہوگا،کیونکہ 2.55 فیصد سالانہ آبادی کے اضافے کے ساتھ پائیدار ترقی ممکن نہیں،رواں سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی،حکومت معیشت کو مستحکمکرنے کیلئے مختلف اقدامات کررہی ہے،نجی شعبے کو آگے آ کر معیشت میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی اب وزارت خزانہ کے پاس ہے، ایف بی آر کا کام ٹیکس محصولات جمع کرنا ہے، ایف بی آر کی توجہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہے، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا، گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے اور رواں سال 41 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہونے کی توقع ہے۔محمداورنگزیب نے کہا کہ ٹیرف شعبے میں بڑے اصلاحات متعارف کرائے ہیں، یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں، ہمیں تسلیم کرناچاہیے کہ ٹیکس زیادہ ہے یاانرجی قیمت زیادہ ہیت و یہ حقیقی مسائل ہیں، ہم جتنی ڈیوٹیز بڑھاتے جائیں تو یہ ہمارے لئے نقصان ہے، ہمیں ڈیوٹیز کو معقول بنانا ہوگا اورکاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکسوں اوربجلی کی لاگت میں کمی کے لیے نئے بزنس ماڈلز پرغور کرنا ہوگا۔ شرح سود میں کمی سے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی ضرورت ختم ہو جائے گی،تاہم قرضوں پر سود کی ادائیگی بدستور حکومت کا سب سے بڑا خرچ ہے،انہوں نے بتایا کہ بہتری کے لیے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم کیا گیا جس کے باعث گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت ہوئی، جبکہ رواں سال بھی اتنی ہی بچت متوقع ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ غیربینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیاجارہاہے، برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانے کیلئے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے، رواں سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، حکومتی اصلاحات کا مقصد ملکی خزانے پر بوجھ کو کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، پہلی بارٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پرڈیوٹیز کوکم کیا، موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کیلئے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہوسکتی ہیں جب کہ قرضوں کی ادائیگی خودکم نہیں ہوئی، ہم نے اقدامات کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے گئے ہیں، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریبا ایک ہزار ارب روپے ضائع ہورہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہورہی تھی۔ اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں، برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے، حکومت معاشی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صلاحیتوں کی کمی نہیں، عوام اور سرمائے کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے، پالیسی ساز، کاروباری طبقہ اور تعلیمی ماہرین معاشی اصلاحات کیلئے ایک پیج پر ہیں۔محمد علی نے کہا کہ میکرو اور مائیکرو اشاریوں کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی بھی ضرورت ہے، معاشی ترقی کے عمل میں خواتین کی شمولیت ضروری ہے، ماضی کی غلط معاشی حکمت عملی نے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی، نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کودرست کرنے کا طریقہ ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی