ملک کا غیرملکی مصنوعات پر انحصار بڑھنے لگا، اسمارٹ فونز، گاڑیوں، خوراک، زرعی آلات، دھاتوں کی امپورٹ بڑھ گئی۔ 6 ماہ میں دیگر ملکوں سے ساڑھے 34 ارب ڈالر کا سامان خرید ا جبکہ صرف 15 ارب ڈالر کی پاکستانی مصنوعات باہرفروخت کی گئیں، 6 ماہ میں تجارتی خسارہ 35.52 فیصد اضافے سے 19 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔رپورٹ کے مطابق جولائی تا دسمبر 4 ارب 63 کروڑ ڈالر کی صرف خوراک امپورٹ کی گئی، پچھلے سال کے مقابلے کھانے پینے کی اشیا کی درآمدات میں 21.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چینی، دودھ، مکھن، کریم، خشک میوے، چائے، مصالحے، سویا، پام آئل شامل ہے۔ پاکستانی 6 ماہ میں تقریبا 90 ارب روپے کی درآمدی چائے پی گئے۔ اس عرصے کے دوران تقریباً ایک ارب ڈالر کے اسمارٹ موبائل فون امپورٹ کیے گئے، درآمدی اسمارٹ فونزکی مقامی کرنسی میں مالیت 271 ارب روپے ہے۔
صرف دسمبر میں 16 کروڑ ڈالر یعنی 45 ارب روپیکیفون امپورٹ ہوئے،35 کروڑ ڈالر یعنی 100 ارب روپے کا موبائل سے متعلق سامان بھی درآمد کیے گئے۔دستاویز کے مطابق ٹیکسٹائل سمیت مشینری کی درآمد 16 فیصد اضافے سے 5 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، امپورٹڈ گاڑیوں سمیت تقریبا 2 ارب ڈالر کا ٹرانسپورٹ کا سامان بھی درآمد ہوا، کاریں، بسیں، ٹرک، پرزہ جات، جہازاورکشتیاں شامل ہیں۔ 60 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی ربڑمصنوعات، ٹائر، لکڑی اور پیپر بورڈ درآمد کیا گیا۔چھ ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، کھاد، کیڑے مارادویات، کیمیکلز سمیت 5.37 ارب ڈالر کا زرعی سامان درآمد کیا گیا، سونے، لوہے، اسٹیل، ایلومینیم سمیت 3.23 ارب ڈالر کی دھاتیں بھی امپورٹ کی گئی۔ خام کپاس، سنتھیٹک فائبر، سلک دھاگے سمیت 3.37 ارب ڈالر کا ٹیکسٹائل سامان امپورٹ کیا گیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی