i پاکستان

بینک آف پنجاب کی مبینہ سائبر حملے کی خبروں کی تردیدتازترین

January 06, 2026

بینک آف پنجاب نے سائبر حملے سے متعلق خبرو کو انہیں غلط اور بے بنیاد قرار دے دیا ۔ بینک کی جانب سے جاری وضاحتی بیان کے مطابق معمول کی مانیٹرنگ کے دوران کریڈٹ کارڈ کی کچھ بے قاعدہ ٹرانزیکشنز کی نشاندہی ہوئی، جس کے فورا بعد داخلی جائزہ شروع کیا گیا۔ بیان کے مطابق معمول کی مانیٹرنگ کے دوران، بینک نے کریڈٹ کارڈ کی کچھ بے قاعدہ ٹرانزیکشنز (لین دین)کی نشاندہی کی اور فوری طور پر داخلی جائزہ شروع کیا ، جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ ٹرانزیکشنز کریڈٹ کارڈ سسٹم میں ایک عارضی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئیں، جس نے بینک کے موجودہ صارفین کی ایک مخصوص تعداد کو غیر مجاز ٹرانزیکشنز کرنے کے قابل بنا دیا۔یہ صارفین، جیسا کہ میڈیا کے کچھ حصوں میں رپورٹ کیا گیا ہے، کسی خاص سرکاری اسکیم یا پروگرام، بشمول "آسان کاروبار کارڈ" تک محدود نہیں تھے

بلکہ اس مسئلے نے عمومی طور پر بینک کے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے ایک مخصوص گروپ کو متاثر کیا۔بینک یہ وضاحت کرنا چاہتا ہے کہ یہ تکنیکی مسئلہ کسی سائبر حملے کا نتیجہ نہیں تھا، اور سسٹم میں نشاندہی کی گئی خامی کو اب مکمل طور پر درست کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں 2 جنوری کو ہونے والی سسٹم اپ ڈیٹ کا اس مخصوص کریڈٹ کارڈ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بینک کے معیاری طریقہ کار کے مطابق ریکوری کے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں، اور جہاں زیادہ تر صارفین نے خود رابطہ کر کے حد سے زیادہ استعمال شدہ رقوم کی ادائیگی شروع کر دی ہے، وہیں تمام ضروری اصلاحی اقدامات پر بھی عمل کیا جا رہا ہے۔اس معاملے میں شامل رقم کے حجم کے حوالے سے گردش کرنے والے دعوے انتہائی قیاس آرائیوں پر مبنی، مبالغہ آمیز اور غلط ہیں۔ صورتحال بینک کے لیے مکمل طور پر قابو میں ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی