اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد سے پاکستان دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور عالمی میڈیا کے کیمروں کا رخ اسلام آباد کی طرف ہے۔فرانسیسی خبررساںادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان مذاکرات کی بنیاد رکھ چکا ہے، اور اب سب کی نظریں چین کے کردار پر بھی ٹکی ہیں، چین سے ضامن بننے کی درخواست کی گئی ہے، کیوں کہ ایران ایک ضامن چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ بیجنگ کے اسلام آباد اور تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اور وہ کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ چین نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے، اور دونوں ممالک خود کو آہنی بھائی قرار دیتے ہیں۔چین نے روس کے ساتھ مل کر جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل ایک اہم قدم بھی اٹھایا، جب اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی