i پاکستان

او جی ڈیل سی ایل غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ،وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑتازترین

January 27, 2026

سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے او جی ڈیل سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس پر سماعت کی۔نیب کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ او جی ڈی سیل ایل میں اوور اسٹاف بھرتیاں کی گئیں، سابق وزیر انور سیف اللہ کی جانب سے چیئرمین او جی ڈی سی ایل کو تقرری لیٹرز جاری کرنے کا کہا گیا، نوکریوں کے اپوائنٹمنٹ لیٹر بھی وفاقی وزیر کے آفس بھجوائے گئے، بھرتیوں کا طریقہ کار اشتہار کے ذریعے ہونا چاہیے تھا۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں اوور بھرتیاں ہیں، وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں جس پر نیب وکیل نے کہا کہ سول سرونٹ اگر احکامات ماننے سے انکار کرے تو اس پر عذاب آجانا ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ بادشاہ تو نہیں، بس آرڈر کر دیا، ہر سرکاری ادارے میں اوور اسٹاف بھرتیاں ہیں۔ جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ وزرا سے عوام نوکریاں تو مانگتے ہیں۔سماعت کے دوران بتایا گیا کہ پی آئی اے میں اوور بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی اور اس وقت بھرتیاں کی گئیں جب احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزیر سزا تو بھگت چکے ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ سزا کا ایک داغ تو ہے اور پوچھا کہ کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کر لی ہے۔نیب کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ نظرثانی خارج کرکے اصل فیصلہ برقرار رکھا جائے۔ عدالت نے سابق وزیر کی نظر ثانی درخواست پر وکلا کو تیاری کی ہدایت کردی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی