امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روسی ہم منصب پیوٹن امریکی ٹیرف سے محفوظ رہے جس پر دنیا بھر میں حیرانگی کا اظہار کیا گیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت درجنوں ممالک پر کئی سالوں سے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو طرفہ محصولات عائد کردیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی محصولات کے منصوبے کے بارے میں اپنی تقریر میں چین، بھارت، جاپان اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کا ذکر کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ روس اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ ٹرمپ کے منصوبے کا مقصد تجارتی عدم توازن کو دور کرنا اور انصاف پسندی کو فروغ دینا ہے، لیکن دوسرے ممالک جوابی اقدامات کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کا عزم کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق وائٹ ہائوس نے اس حوالے سے وضاحت کی کہ روس کو ٹرمپ کی ٹیرف لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ امریکی پابندیاں پہلے ہی ملک کے ساتھ تجارت کو محدود کرتی ہیں، جس سے ٹیرف غیر ضروری ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، موجودہ پابندیاں پہلے ہی روس کے ساتھ زیادہ تر تجارت کو محدود کرتی ہیں، اس لیے اس پر محصولات عائد کرنے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی