i بین اقوامی

ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایٹمی حملہ کر سکتا تھا،صدر ٹرمپ کا دعویتازترین

March 18, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرتے تو تہران جلد ایٹمی حملہ کر سکتا تھا،ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں لیکن نیٹو آبنائے ہرمز کے معاملے پر جہاز نہ بھیج کر احمقانہ غلطی کر رہا ہے، ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے جارہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر نیٹو کے خلاف شکایات کا اظہار کیا اور کہا کہ اتحادیوں کے رویے پر ناراضی ظاہر کی ہے۔ ایران جنگ میں اتحادیوں کی جانب سے مدد کی درخواستیں رد ہونے پر انہوں نے کہا کہ امریکا جیسے طاقتور ملک کے صدر کے طور پرکہنا چاہتاہوں ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا نیٹو احمقانہ غلطی کر رہا ہے، نیٹو کو اس وقت خطے میں ہونا چاہیے تھا۔ امریکا نے ہمیشہ نیٹو اتحادیوں کی ہر موقع پر مدد کی، مگر اب اتحادی امریکا کا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں، جو افسوسناک ہے۔فرانسیسی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے آپریشن میں حصہ نہ لینے کے بیان پر ٹرمپ نے کہا کہ میکرون جلد عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے نام لیے اور کہا کہ ہم جو ایران کے ساتھ کر رہے ہیں اس پر بیشتر ممالک متفق تھے ، لیکن ضرورت کے وقت ان ممالک نے امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ برطانوی وزیر اعظم امریکا کی کامیابی کے بعد دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر آمادہ ہوئے، تاہم انہوں نے اس تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم ایک اچھے انسان ہیں لیکن صورت حال میں فوری اقدام ضروری تھا۔

صدر ٹرمپ نے علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے جارہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو وہ اب تک ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ایرانی کی فضائیہ اور نیوی کو مکمل تباہ کردیا ہے اور ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا فوری طور پر خطے سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم مستقبل قریب میں وہاں سے انخلا ممکن ہے۔ٹرمپ نے جو کینٹ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو خطرہ نہ سمجھنا غلط ہے۔ ان کے بقول جو کینٹ ایک اچھے انسان ہیں لیکن سلامتی کے معاملات میں کمزور ثابت ہوئے۔دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کہا ہیکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ کو عوامی مقبولیت نہ ملنے پر میڈیا پر دبا ئوبڑھانا شروع کر دیا۔امریکی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہر روز ایک یا زائد شکایتیں رجسٹر کراتی ہے۔ سی این این کے مطابق خود ٹرمپ میڈیا کو "کریمنل" اور "غیر محب وطن" کہنے سے نہیں چوکتے، جبکہ فیڈرل کمیونی کیشنز کمیشن کے چیئرمین برینڈن کیر ، جنہیں ٹرمپ نے چنا ہے، کئی بار براڈ کاسٹرز کو ان کے نشریاتی لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سی این این کے سینیئر سیاسی مبصر ڈیوڈ ایکزل روڈ نے لکھا ہے کہ لگتا ہے ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر جنگ کی خبریں بہتر نہیں ہوتیں، تو جنگ کی خبریں دینے والوں پر حملہ کرنا بہتر ہوگا۔سی این این نے لکھا ہے کہ جنگ کے بارے میں سخت سوالات کے جواب میں ٹرمپ محض "فیک نیوز" کہہ کر جان چھڑاتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی