امریکی فوج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل سائٹس کو نشانہ بنا یا گیاہے جبکہ امریکی میڈیا نے دعوی کیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ ایران جنگ چھوڑ کر واپس بندرگاہ کی طرف جا نا شروع ہوگیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ایرانی میزائل سائٹس پر زیرِ زمین بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے طاقتور بموں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع مضبوط میزائل سائٹس پر کامیابی کے ساتھ متعدد 5000 پانڈ وزنی زیرِ زمین اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بموں کا استعمال کیا ہے۔امریکی فوج کے مطابق ان مقامات پر موجود ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کی بندش کی وجہ سے دنیا کی تقریبا 20 فیصد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے ہوا ہے۔امریکہ کے یہ بڑے بم جنھیں بنکر بسٹرز کہا جاتا ہے ان بموں سے طاقت میں کم ہیں کہ جو اس نے گزشتہ سال ایران میں تین زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر حملے کے دوران استعمال کیے تھے۔دوسری جانب امریکی اخبار کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے مرکزی لانڈری ایریا میں لگی آگ بجھانے میں 30 گھنٹوں سے زیادہ وقت لگا۔ بتایا گیا تھا کہ واقعے میں دو امریکی فوجی زخمی ہوئے تاہم جہاز کے انجن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، بحری بیڑے میں آگ لگنے سے 600 سے زائد فوجی اپنے بستروں سے محروم ہوگئے تھے رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈپر تقریبا ساڑھے چار ہزار افراد کا عملہ تعینات ہے۔ قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ میں آگ لگ گئی تھی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی