امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکہ میں درآمد شدہ گاڑیوں اور ہلکے ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ۔اوول آفس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ان تمام گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے جا رہے ہیں جو امریکہ میں نہیں بنتیں۔ٹرمپ نے اس اقدام کو امریکی صنعتی بنیاد کو بحال کرنے اور ملکی آمدنی میں اضافہ کرنے کے ایک ذرائع کے طور پر پیش کیا ہے جو کہ ان کے مطابق امریکی ٹیکس کٹوتیوں کو پورا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ یہ ٹیرف 3 اپریل سے نافذ العمل ہوں گے اس کے اگلے روز وہ امریکی تجارتی خسارے کے ذمہ دار ممالک کے خلاف جوابی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے اس اقدام کو کاروباری اداروں کے لیے نقصان دہ اور صارفین کے لیے بدتر قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اس فیصلے کو کینیڈیائی کارکنوں کے لیے براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایلون مسک نے آٹو ٹیرف کے بارے میں مشورہ نہیں دیا، ہو سکتا ہے کہ میں چین پر ٹیکس میں تھوڑی کمی کر دوں۔اس کے علاوہ صحافی کو یمن حملے کی تفصیلات غلطی سے بھیجے جانے کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ جنگی منصوبہ لیک ہونے کی خبریں بے بنیاد اور میڈیا ٹرائل کیا جارہاہے ۔ مشیر قومی سلامتی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے، مگر ہو سکتا ہے کہ سگنل ایپ میں ہی خرابی ہو ، سگنل رابطے کا موثر ذریعہ نہیں۔مائیک والٹزاورپیٹ ہیگستھ کامعاملے سے کوئی تعلق نہیں،یہ قومی سلامتی کا ایشو نہیں، اسے اہمیت نہیں دیتا۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ حوثیوں پر ملے جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کا حوثیوں کے ٹھکانوں پرکامیاب حملے کیے،بائیڈن اپنے دورحملے کرنے کی بجائے سوتے رہے،
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی