بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنمائوں نے مختلف عالمی اور دوطرفہ مسائل پر بات چیت کی۔ملاقات میں ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کو اربوں ڈالر کا فوجی سامان اور تیل اور گیس فراہم کرے گا، کیونکہ امریکہ کے پاس یہ وسائل کافی مقدار میں موجود ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے 2008 میں ممبئی میں دہشت گرد حملوں میں ملوث پاکستانی شہری تہور رانا کی حوالگی پر بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد کہا کہ انہیں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی اور گزشتہ دور صدارت میں مودی کے ساتھ تعلقات انتہائی مضبوط رہے ہیں۔دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ بھارت امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ملاقات کے دوران مودی پرچیاں دیکھ کر بیان پڑھتے نظر آئے، جس پر امریکی میڈیا نے توجہ دی۔ مودی نے اس موقع پر کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہیں دوبارہ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کے کام کو سراہا اور کہا کہ مودی بھارت میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور وہ ایک بڑے رہنما ہیں۔
مودی نے اس موقع پر ٹرمپ سے ایک اہم بات سیکھنے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ قومی مفاد کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے ہیں۔ ملاقات میں مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممبئی حملوں کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کا شکریہ، ہم انہیں ایف 35 سمیت کئی ارب ڈالرکا فوجی سامان بھارت کو دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ بھارت جتنا ٹیرف لگائے گا ہم بھی اتنا ہی لگائیں گے، انتہاپسند دہشت گردی کا بھارت کیساتھ ملکرمقابلہ کریں گے، یوکرین کونیٹو میں نہیں ہونا چاہئے، جنگ کی وجہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی بات تھی، چین سے امریکا کے بہت اچھے تعلقات ہوں گے، چین ہمیں یوکرین جنگ ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے تجارت کا حجم دوگنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا، امریکی یونیورسٹیوں کو بھارت میں کیمپس کھولنے کی دعوت دی، انہوں نے امریکی صدر کو دورہ بھارت کی دعوت دی، امریکا خود کو عظیم بنانا چاہتا ہے ہم بھی بھارت کو عظیم بنانا چاہتے ہیں۔نریندر مودی نے مزید کہا کہ لاس اینجلس میں نیا بھارتی سفارتخانہ کھولیں گے۔
وائٹ ہاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر موودی کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہور رانا کو دنیا کے بدترین لوگوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کا سامنا کرنے کے لیے بھارت واپس جا رہے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک بہت پرتشدد شخص دے رہے ہیں، اور میں نہیں جانتا کہ اسے ابھی تک مجرم قرار دیا گیا ہے یا دیا جائے گا، لیکن فرض کریں کہ وہ ایک بہت پرتشدد شخص ہے، ہم اسے فوری طور پر بھارت کے حوالے کررہے ہیں اور اس پر عمل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، کیونکہ ہمارے پاس بہت سی درخواستیں ہیں اور ہم جرائم پر بھارت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، اور ہم اسے بھارت کے لیے اچھا بنانا چاہتے ہیں، اور یہ بہت اہم ہے، اس طرح کے تعلقات ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ تہور رانا کی حوالگی کے فیصلے کے لیے ٹرمپ کے بہت شکر گزار ہیں،انہوں نے تہور رانا کو بھارت میں نسل کشی کا مرتکب قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس مجرم کو اب بھارت کے حوالے کیا جا رہا ہے، اور میں اس کے لیے صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں، اور ہندوستان کی عدالتوں میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی