حماس اور اسرائیل کے درمیان 620 فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور 4 اسرائیلی مغویوں کی لاشوں کے تبادلے پر اتفاق ہوگیا، جس سے جنگ بندی معاہدے میں حائل بڑی رکاوٹ ختم ہوگئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ قیدی گزشتہ ہفتے رہا ہونے تھے، مگر اسرائیل نے ان کی رہائی روک دی تھی۔ تاہم، اب جلد رہائی کا امکان ہے۔اسرائیلی میڈیا نے بھی اس ڈیل میں حائل رکاوٹ کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قیدی رہا ہورہے ہیں ۔رہائی کے بعد، حماس 4 اسرائیلی مغویوں کی لاشیں مصر کے ذریعے اسرائیل کے حوالے کرے گا۔امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی نمائندے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ مذاکرات قاہرہ یا دوحہ میں مصر اور قطر کی میزبانی میں ہوں گے۔دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل غزہ میں 42 دن کی جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے تاکہ باقی 63 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے، جبکہ غزہ کے مستقبل پر فیصلہ موخر کرنے کا امکان ہیجنگ بندی کا معاہدہ 19 جنوری سے جاری ہے
جو ہفتے کے روز ختم ہو رہا ہے، لیکن فریقین کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکے۔اسرائیلی نائب وزیر خارجہ شارین ہاسکل کا کہنا ہے کہ اگر جمعہ تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو یا تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے یا موجودہ سیز فائر برقرار رہے گا، لیکن قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوگا اور اسرائیل غزہ میں امداد روک سکتا ہے۔اب تک 29 اسرائیلی قیدی اور 5 تھائی باشندے رہا کیے جا چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں فلسطینی قیدی بھی رہا کیے گئے۔ اسرائیل نے مزید 600 فلسطینی قیدیوں کی رہائی مخر کر دی ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔اسرائیلی بلڈوزر نے جنین کے پناہ گزین کیمپ کا بڑا حصہ منہدم کر دیا، جس سے 40 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوجی وہاں طویل قیام کی تیاری کر رہے ہیں اور فوجی سازوسامان اور پانی کے ٹینک نصب کر دیے گئے ہیں۔جنین کی بلدیہ کے ترجمان کے مطابق، یہ وہی حکمت عملی ہے جو غزہ کے جبالیہ کیمپ میں اپنائی گئی تھی۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنین کیمپ کے رہائشیوں کی واپسی پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی