امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ یورپ آزادی اظہار کھو رہا ہے ، یورپی رہنما تقاریر کو سنسر کرتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابقمیونخ کانفرنس سے امریکا کے نائب صدر کا الزامات بھر اخطاب سن کر شرکا حیران رہ گئے، تالیاں بھی نہ بجائیں۔جے ڈی وینس نے کہا کہ برطانیہ میں آزادی اظہار پسپائی اختیار کررہی ہے اور یہ صورتحال روس سے بڑا خطرہ ہے۔امریکی نائب صدر کاکہنا تھا کہ یورپ کو سب سے بڑا خطرہ چین یا روس سے نہیں، خود اپنے آپ سے ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں اسقاط حمل کلینک کے باہر دعا مانگنے والے شخص کی گرفتاری پر اظہار تشویش بھی کیا۔ انہوں نے کہا یورپی رہنما اپنے ممالک میں آزادی اظہارکودبا رہے ہیں،آپ کو خطرہ باہرسے نہیں اندر سے ہے،اپنی عوام کی رائے کو ہرصورت قبول کریں۔ واضح مثال امریکی عوام ہیں جنہوں نے تمام خوف کے باوجود ہمیں مینڈیٹ دیا،آپ کیاپنے ممالک کو بڑے بحرانات کاسامنا ہے،امریکا اور یورپ کے لیے سنگین ترین خطرات اندرون سے آتے ہیں۔نائب صدر نے کہا صدرٹرمپ سب کیساتھ مختلف ہوسکتے ہیں تاہم وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔اگر ہم مخالف آوازوںسے ڈرتے رہے توپھرامن کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا،انہوں نے زور دے کرکہا کہ یورپی قیادت کی پالیسیوں نے براعظم میں مہاجرین کی مشکلات میں کردار ادا کیا۔امریکی نائب صدر کیمطابق سوشل میڈیا پرجھوٹی خبروں پر پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں،وینس کا کہنا تھا کہ،مغرب میں آزادی اظہار میں کمی آ رہی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی