اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں راتوں رات سیکڑوں فلسطینیوں کی موت کا سبب بننے والے فضائی حملے صرف ابتدا ہیں، جنگ بندی کے لیے بات چیت اب صرف شعلوں کے درمیان ہی ہوگی،دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف نیو یارک ،یمن عمان اور پیرس سمیت مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہر ے کئے گئے اور حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ شام ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی افواج حماس پر بڑھتی ہوئی طاقت سے حملہ کریں گی اور جنگ بندی کے لیے بات چیت اب صرف شعلوں کے درمیان ہی ہوگی۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ حماس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہماری طاقت کا وزن محسوس کر لیا ہے اور میں آپ کو اور انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ صرف آغاز ہے۔انہوں نے ہم جنگ کے اپنے تمام مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، اپنے تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کے خاتمے، اور وہ وعدہ کہ غزہ اب اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔ بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی پیش کش قبول کر لی تھی لیکن حماس نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا ، یہی وجہ ہے کہ میں نے حماس کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی۔بینجمن نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ حماس غزہ میں ہونے والی تمام ہلاکتوں کی ذمے دار ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کو حماس کے دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی طرح کے رابطے سے گریز کرنا چاہیے، اور میں غزہ کے لوگوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ نقصان کا راستہ ترک کردیں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ علاقوں میں چلے جائیں، کیونکہ ہر شہری کی ہلاکت ایک المیہ ہے اور ہر شہری کی ہلاکت حماس کی غلطی ہے۔
نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں نے حماس کے ساتھ 19 جنوری کو شروع ہونے والی نازک جنگ بندی کو توڑ دیا ہے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق فضائی حملوں میں کم از کم 404 فلسطینی شہید اور 560 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں فلسطینی اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے ترجمان ابو حمزہ سمیت ان کی اہلیہ اور ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی شہید ہوگئے۔دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف نیو یارک کے ٹائمز اسکوئر پر مظاہرین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ نیو یارک کے ٹائمز اسکوئر پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جنہوں نے اسرائیل کی جانب سے معصوم فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف ایک بار پھر اپنی آواز بلند کی۔مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غزہ پر فوری حملے روکے جائیں جب کہ مظاہرین نے فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے محمود خلیل کو رہا کرنے اور بے دخلی روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ غزہ میں فلسطینیوں پر تازہ حملوں کے خلاف اسرائیلیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں بھی احتجاج کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے اسرائیلی پولیس نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ یمن میں لاکھوں افراد کی اسرائیل اور امریکا کے خلاف ریلی۔ مظاہرین کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ارالحکومت صنعا میں لاکھوں افراد اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ کردیا۔عمان میں مظاہرین نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی نکالی اور اقوام عالم سے اسرائیلی جارحیت بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سینکڑوں افراد نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا ۔۔ مظاہرین نے تازہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی