برطانیہ کی جانب سے بھی بھارتیوں کے خلاف امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ اسٹائل میں ایکشن اپنایا جانے لگا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے ایسے کاروبار کے خلاف ملک گیر کریک ڈائون کا عمل شروع کردیا ہے جو غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت فراہم کرتے ہیں، جن میں انڈین ریستوران، نیل بار، سہولت اسٹورز اور کار واش جیسے کاروبار شامل ہیں۔برطانیہ کا یہ اقدام سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں سے ملتا جلتا ہے۔ٹرمپ غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری کیلئے مہنگے ترین فوجی طیارے کیوں استعمال کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے آفیشل ہوم آفس نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں لوگوں کو ملک بدر کرتے ہوئے، ہوائی جہاز میں سوار ہوتے دکھایا گیا ہے۔ ہوم آفس کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے اب تک تقریبا 19 ہزار افراد کو برطانیہ سے نکالا جا چکا ہے، جن میں سیاسی پناہ سے انکار، غیر ملکی مجرموں اور غیر قانون امیگریشن کے ملزمان بھی شامل ہیں۔
برطانیہ کی ہوم سیکرٹری یوویٹ کوپر نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے جنوری میں ریکارڈ توڑ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جس کے تحت انہوں نے 828 کاروباری اداروں کا دورہ کیا جہاں 609 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ برطانوی ہوم سیکرٹری کے مطابق امیگریشن حکام نے شمالی انگلینڈ کے ہمبر سائیڈ میں ایک ہندوستانی ریسٹورنٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 7 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا۔ہوم آفس نے مزید کہا کہ امیگریشن حکام تمام صنعتوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں، لیکن گزشتہ ماہ انہوں نے زیادہ تر ریسٹورنٹ، ٹیک وے، کیفے اور کھانے پینے کے کاروبار کو نشانہ بنایا جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر ملازمت دیتے تھے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھی غیر دستاویزی مہاجرین کے خلاف کریک ڈائون کی زد میں بڑی تعداد میں بھارتی تارکین وطن نشانہ بنے، امریکہ کی فوجی پرواز کے ذریعے غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کو دوبارہ انڈیا بھیجا جا چکا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی