i بین اقوامی

بنگلہ دیش میں بدامنی و گرفتاریاں،بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی حکومت پر تنقیدتازترین

February 12, 2025

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی(بی این پی) نے پہلی بار عبوری حکومت پر کھل کر تنقید کی ہے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل، مرزا فخر الاسلام عالمگیر، نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت کو خبردار کیا کہ وہ معصوم شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک بھر میں بدامنی پھیل رہی ہے۔ بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہو رہی ہیں، احتجاج شدت اختیار کر رہے ہیں، اور عوامی غصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔پولیس نے حالیہ دنوں میں ایک بڑے آپریشن کے تحت 1,500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس آپریشن کا نام ڈیول ہنٹ رکھا گیا ہے، اور اس میں ان افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر شیخ حسینہ کے حامی ہیں۔ 5 فروری کو مظاہرین نے ڈھاکہ میں کھدائی کرنے والی مشینوں کے ذریعے کئی عمارتیں منہدم کر دیں، جن میں ایک میوزیم بھی شامل تھا جو حسینہ کے والد، بنگلہ دیش کے پہلے صدر، کی یادگار تھا۔

اس دوران پولیس موقع پر موجود رہی مگر کوئی مداخلت نہیں کی، جس پر بی این پی کے رہنما عالمگیر نے سخت ردِ عمل دیا کہ یہ سب کچھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے ہوا، حکومت اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ردِ عمل کے طور پر ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیشی پولیس دوبارہ ظالمانہ پالیسی کی طرف لوٹ رہی ہے، جیسا کہ سابقہ حکومت کے دوران دیکھا گیا تھا۔نوبل انعام یافتہ 84 سالہ ماہر معاشیات محمد یونس، جو اس وقت عبوری حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں، نے تشدد اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا مقصد تمام ناانصافیوں کو ختم کرنا تھا۔ اگر ہم بھی وہی کریں جو پچھلی حکومت کرتی رہی، تو ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی