امریکا کی جانب سے لگائے جانے والے جوابی ٹیرف پر مختلف ممالک کا رد عمل سامنے آگیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ نے چینی اشیا پر 54 فیصد ٹیکس شامل کیا جس کی چین نے سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کا حصہ ہے۔چین کا کہنا ہے کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوگا۔ چین کا کہنا ہے کہ امریکہ ٹیرف میں کمی کرے اور اس کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرے۔آسٹریلیا کا جوابی ٹیرف پر کہنا ہے کہ امریکی عوام ان ناجائز ٹیرف کی سب سے بھاری قیمت چکائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت باہمی محصولات عائد کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ ہم نیچے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے جس سے قیمتیں بلند ہوں اور ترقی کی رفتار کم ہو۔آئرلینڈ کے وزیر سائمن ہیرس نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں، اسے آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ سمجھتے ہیں۔
دریں اثنا وزیراعظم مائیکل مارٹن نے ٹرمپ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ موقف مضبوط تجارتی تعلقات، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ برقرار رکھنے کے لیے آئرلینڈ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین محصولات عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں اور اس سے کمزور لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔برطانوی وزیرتجارت نے کہا کہ امریکی ٹیرف کے باوجود امریکا کے ساتھ اقتصادی معاہدے کے لیے پرعزم ہیں۔امریکی ٹیرف پر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے عالمی تجارتی تنا کے درمیان ہسپانوی کاروبار اور کارکنوں کی حفاظت کے عزم کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک کی درآمدی مصنوعات پر کم ازکم 10 فیصد ٹیکس عائد کردیا ہے، 25 ممالک پر جوابی ٹیرف لگایا گیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی