پاکستان سپر لیگ کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ پی ایس ایل میں جس طرح کا پلان کیا تھا اس کے مطابق چیزیں نہیں گئیں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اہم پلیئرز کی پرفارمنس اس طرح نہیں آئی جس کی توقع کر رہے تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سیزن کی طرح اس مرتبہ ہمارا کمبی نیشن نہیں بن سکا جس کی وجہ سے یہ پرفارمنس ہے۔انہوں نے کمبی نیشن کے حوالے سے کہا کہ پہلی مرتبہ آکشن ہوئی، نیا کمبی نیشن بنا، اسے تھوڑا ٹائم دینا پڑے گا، خواجہ نافع نوجوان ٹیلنٹ ہے، پاکستان ٹیم کے ساتھ ہے، کبھی پلیئر کچھ چیزوں میں پھنس جاتا ہے، خواجہ نافع نے شاید بہت زیادہ توقعات کا دبا لے لیا ہے، وہ ان چیزوں سے جتنا جلد سیکھ لے گا اس کو فائدہ ہو گا۔کپتان سعود شکیل نے تسلیم کیا کہ ہم سے وہ پرفارمنس نہیں ہو پائی جو ہونی چاہیے تھی یا جس کی توقع تھی، میرا آغاز اچھا تھا لیکن دوسرے مرحلے میں چیزیں میرے حق میں نہیں گئیں اور ٹورنامنٹ خراب ہو گیا، میرے ہاتھ میں محنت ہے اور میرا یقین ہے کہ جو ہاتھ میں ہو وہ سو فیصد کریں۔
انہوں نے کہا کہ پروفیشنل کرکٹر ہونے کے ناتے یہ نہیں دیکھتے کہ ریڈ بال کرکٹ ہے یا وائٹ بال، لوگ جو کہتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں لیکن میری کوشش ہوتی ہے جو ڈیمانڈ ہو اس طرح کی کرکٹ کھیلی جائے، مجھے مواقع ملے لیکن میں وہ کرکٹ نہیں کھیل سکا جو کھیلنی چاہیے تھی، ٹارگٹ یہی ہے کہ آئندہ جو بھی وائٹ بال کرکٹ ہے اس میں ایک مختلف سعود شکیل نظر آئے۔سعود شکیل کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل 11 کی کئی چیزیں پازیٹو ہیں، ٹیمیں زیادہ ہونے پر یقین تھا کہ زیادہ نوجوانوں کو اب موقع ملے گا، کئی نوجوان کھلاڑیوں نے اس کا فائدہ اٹھایا، پاکستان ٹیم کو نئے ٹیلنٹ سے فائدہ ہو گا، اسٹیو اسمتھ آپ کے ساتھ کھیل رہے ہوں اور میکسویل بھی ڈریسنگ روم شئیر کر رہے ہوں تو نوجوان کھلاڑی بہت کچھ سیکھتے ہیں، پی ایس ایل اب اور اوپر جائے گی اور پاکستان کو فائدہ ہو گا۔سعود شکیل کا کہنا ہے کہ کراڈ کے بغیر وہ چارم نہیں رہتا، سب کرکٹرز نے کراڈ کو مِس کیا ہو گا، میں نے تو بہت زیادہ مِس کیا، میں نے کراڈ کے بغیر انجوائے نہیں کیا لیکن جو حالات ہیں وہ ہمارے کنٹرول میں نہیں۔انہوں نے عثمان طارق کے حوالے سے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی مسٹری اسپنرز آئے ہیں، ان کا ایک دور ہوتا ہے اور پھر ٹیمیں پکڑ لیتی ہیں، اب یہ بولرز پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کیا ورائٹی لے کر آتے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی