i کھیل

بھارتی میڈیا پر میرے بیان کو غلط رنگ دیا گیا، شعیب اختر کا محسن نقوی پر یوٹرنتازترین

February 17, 2026

پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلے میں شکست کے بعد سابق فاسٹ بولر شعیب اختر بھارتی میڈیا پر دئیے گئے اپنے ایک بیان کے باعث تنازع کی زد میں ہیں۔ بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارتی ٹی وی پر تبصرے کے دوران شعیب اختر نے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی پر مبینہ تنقید کی۔ اس دوران ان کی بھارتی اینکر کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی جس کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ بعد ازاں شعیب اختر نے نجی ٹی وی پروگرام میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا پر ان کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا۔شعیب اختر نے کہا کہ میں نے اِن کمپیٹنٹ اور جاہل جو کہا تو انہیں لگتا ہے میں نے محسن بھائی کے بارے میں کہا تھا، لیکن میرا اشارہ عالمی کرکٹ کو چلانے والی ٹاپ براس کی طرف تھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اسی پروگرام میں کہا تھا محسن بھائی کے بارے میں غلط بات نہ کرنا میں برداشت نہیں کروں گا، میں نے کہا تھا محسن نقوی ایک اچھے آدمی ہیں وہ پاکستان کرکٹ کی مدد کرنا چاہتے ہیں

لیکن انہیں صحیح مشورہ نہیں ملتا۔برطانوی امپائر رچرڈ کیٹلبرو نے شعیب اختر کے اس بیان کو یوٹرن قرار دیا۔شعیب اختر نے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ سے دس برسوں میں ٹیم تسلسل کے ساتھ بہتر نتائج نہیں دے سکی۔انہوں نے کہا کہ شاہین آفریدی مکمل فٹ نہیں ہیں اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ بابر اعظم کے انداز سے مطابقت نہیں رکھتا، خاص طور پر جب تک انہیں اوپننگ پوزیشن پر موقع نہ دیا جائے۔انہوں نے شاداب خان کے انتخاب پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ٹیم میں بعض فیصلے سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے غلط انداز میں کھلاڑیوں کو اسٹار بنایا اور کوچنگ و انفراسٹرکچر پر مطلوبہ توجہ نہیں دی۔سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ بھارت جدید تقاضوں کے مطابق کرکٹ کھیل رہا ہے جبکہ پاکستان ابھی بھی پرانے طریقوں پر انحصار کر رہا ہے، جس کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔ ماضی میں پاکستان نے بھارت کو اس کی سرزمین پر شکست دی، مگر موجودہ حالات میں نظام اور منصوبہ بندی پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی