i پاکستان

توانائی کا شعبہ تاریخی تبدیلی سے گزر رہا ہے،درآمدی ایندھن پر انحصار ملکی معیشت اور توانائی سلامتی کیلئے خطرہ ہے ، اویس لغاریتازترین

August 04, 2026

وفاقی وزیربرائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان شعبہ توانائی میں تاریخی تبدیلی سے گزر رہا ہے ،درآمدی ایندھن پر انحصار ملکی معیشت اور توانائی سلامتی کیلئے خطرہ ہے،پاکستان میں سولر بجلی کی استعداد 38 ہزار میگاواٹ پر پہنچ گئی، 2035 تک 90 فیصد صاف توانائی کا ہدف ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسیبلٹی 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اویس لغاری نے کہا کہ بجلی پیداوار نہیں بلکہ مثر استعمال اور ذخیرہ کرنے کا چیلنج درپیش ہے، دن میں بجلی کی اضافی پیداوار جبکہ شام میں طلب بڑھ جاتی ہے، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز بجلی کی ترسیل اور گرڈ کے استحکام کے لئے ناگزیر ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مقامی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی ملکی توانائی خودمختاری کو مضبوط بناتی ہے، درآمدی ایندھن پر انحصار پاکستان کی معیشت اور توانائی سلامتی کے لئے خطرہ ہے، قطر سے آر ایل این جی سپلائی متاثر ہونے پر رات کو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔دن کے وقت سولر بجلی دستیاب ہونے سے بجلی کی صورتحال نسبتا بہتر رہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے، حکومت نے 2035 تک اسے 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج کے بغیر 90 فیصد کلین انرجی ہدف حاصل نہیں ہو سکتا، بیٹری اسٹوریج بجلی کو قومی اثاثہ بنانے اور گرڈ کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا ۔حکومت بیٹری انرجی اسٹوریج کی مقامی صنعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں بیٹریوں کی درآمد نہیں بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے گا، وزارتِ صنعت مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسکوز میں بیٹری انرجی اسٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی منظوری دے دی گئی، پائلٹ منصوبوں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کی ریگولیٹری پالیسی کی بنیاد بنے گا، حکومت قومی بیٹری انرجی اسٹوریج فریم ورک تشکیل دے رہی ہے، نئے فریم ورک میں معیار، گرڈ کنکشن اور سرمایہ کاری کے قواعد شامل ہوں گے۔وزیر توانائی نے عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی سفارشات کو براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا، کیونکہ حکومت نمائشی رپورٹس نہیں بلکہ قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ تجاویز چاہتی ہے ۔ پاکستان کی توانائی کا مستقبل مقامی سورج، مقامی انجینئرز اور مقامی بیٹری اسٹوریج سے وابستہ ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی