i پاکستان

سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کسی صورت قبول نہیں،ملازمین کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ چوہدری محمد یٰسینتازترین

August 04, 2026

سی ڈی اے مزدور یونین (سی بی اے) کے زیرِ اہتمام سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کی نجکاری کے خلاف سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین، صدر اورنگزیب خان، چیئرمین راجہ شاکر زمان کیانی، سپریم ہیڈ مرزا سعید اختر، حاجی صابر، مزدور رہنما صوفی محمود علی، محمد عاصم ملک، اظہر خان تنولی، اظہارعباسی،ملک دلشاد، وارث دلیپ،طارق شریف،سلیم بھٹی،الیاس طفیل،کلیم اللہ زمری،اشفاق گجر،فاروق نور،یعقوب خان،سرداراخلاق،چوہدری شاہد اقبال،زاہد بھٹی،تشکیل جاویدسمیت سی بی اے کمیٹیوں کے نمائندگان اور ہزاروں محنت کشوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے نجکاری کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سی ڈی اے مزدور یونین (سی بی اے) کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین، صدر اورنگزیب خان اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سی ڈی اے مزدور یونین ملازمین کی حقیقی نمائندہ تنظیم ہے جو مسلسل پانچویں مرتبہ ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کرکے این آئی آر سی کے ایکٹIRA-2012 کے تحت بطورسی بی اے منتخب ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ مزدوریونین سی ڈی اے ملازمین کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے اور ملازمین کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی۔انھوں نے کہا کہ سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے محنت کشوں کااسلام آباد کو صاف، سرسبز اور خوبصورت رکھنے میں اہم کردارہے جس کی بدولت وفاقی دارالحکومت کا شمار دنیا کے خوبصورت اور صاف شہروں میں کیا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ انہی محنت کشوں کو نجکاری کے نام پر بے روزگار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

اس موقع پر انھوں نے مطالبہ کیا کہ سینی ٹیشن سمیت دیگر شعبوں کی نجکاری کرنے کے بجائے ان شعبوں کو جدید مشینری، گاڑیاں، آلات اور مطلوبہ افرادی قوت فراہم کی جائے تاکہ شہر کی صفائی اور شہری سہولیات کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ نجکاری مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوگا اور ادارے کی کارکردگی بھی متاثر ہوگی۔انھوں نے مزید کہا کہ سی ڈی اے مزدور یونین ہمیشہ مذاکرات اور افہام و تفہیم پر یقین رکھتی ہے تاہم اس پالیسی کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ موجودہ ملکی حالات سیاسی اور معاشی استحکام کے متقاضی ہیں اس لیے انتظامیہ کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو محنت کشوں میں بے چینی پیدا کریں۔ اس موقع پر انھوں نے چیئرمین سی ڈی اے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کی منتخب نمائندہ یونین کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں اورسینی ٹیشن سمیت دیگر شعبوں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیا جائے، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملازمین کو پلاٹس الاٹ کیے جائیں جبکہ عید الاؤنس اور ایسٹر الاؤنس سمیت دیگر واجبات بھی فوری ادا کیے جائیں اور اگر ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سی ڈی اے مزدور یونین کام چھوڑ ہڑتال کی کال دینے پر مجبور ہوگی جس کے نتیجے میں پورے وفاقی دارالحکومت کا نظام متاثر ہو سکتا ہے اس ضمن میں اگرشہر کا صنعتی امن خراب ہواتواسکی تمام تر ذمہ داری سی ڈی اے انتظامیہ پر ہوگی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی