i پاکستان

صدر مملکت ، وز یر اعظم سمیت قومی قیادت کا افغان طالبان کو منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیشتازترین

February 27, 2026

صدر مملکت آصف علی زرداری ، وز یر اعظم شہبازشریف سمیت دیگر قومی قیادت نے افغان طالبان کو منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے ۔صدر آصف زرداری نے افغان طالبان کی جارحیت کے جواب میں مسلح افواج کے ردعمل کو جامع اور فیصلہ کن قرار دیدیا۔ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف زرداری نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ پاکستان امن اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ امن کو کمزوری سمجھنے والے مضبوط جواب کے لیے تیار رہیں، کوئی بھی دشمن ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوگا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو معلوم ہے منصوبہ ساز اور سہولت کار کہاں موجود ہیں۔ خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوں گے۔ قومی سلامتی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان دبا یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔صدر مملکت نے کہا پاکستانی قوم اور افواج وطن کیدفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہے۔ 5 برس سے دہشت گردی کی کارروائیوں پرشدید تشویش ہے۔ سفارتی کوششوں کے باوجود مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔وزیراعظم شہباز شریف نے افغان طالبان کو منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا افواج جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے، افواج کاعزم ہے ملک کے امن اور تحفظ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا فیلڈمارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج جذبے کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ افواجِ پاکستان پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور موثر دفاعی حکمتِ عملی سے لیس ہیں، افواج کسی بھی اندرونی یا بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دشمن کو ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔وزاعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو فروغ دیا، ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ ہے۔وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری بہادر افواج اسوقت بھارت کی پراکسی طالبان و افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں، انشا اللہ شکست دشمن کا مقدر ہے۔خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریں گے مگر طالبان نے افغانستان کو بھارت کی کالونی بنا دیا۔خواجہ آصف نے کہا طالبان نے ساری دنیا کے دہشت گردوں کا افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔

اپنی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا، خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے۔وزیردفاع نے کہا کہ پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعہ حالات نارمل رکھنے کی پوری کوششیں کیں، بھر پور سفارت کاری کی مگر طالبان بھارت کی پراکسی بن گئے، آج جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ہماری افواج نے فیصلہ کن جواب دیا۔ خواجہ آصف نے کہا پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہے، ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتیہیں۔ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ افغان طالبان نے حملہ کرکے بھیانک غلطی کی، افغان طالبان کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے افغان طالبان کی جانب سیشہری آبادی کو نشانہ بنانیکی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں وار کیا اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی۔ وزیرداخلہ نے افغان طالبان کی جارحیت کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی جارحیت پر پاک فوج نیمنہ توڑ جواب دیا۔ قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ادھر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے افغانستان کی جانب سے دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رات کی تاریکی میں پاکستانی چوکیوں پر حملے انتہائی شرمناک اور بزدلانہ فعل ہے۔ایاز صادق نے افغان جارحیت کے خلاف فوری اور مثر جوابی کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افغانستان بھارت کی پراکسی بن چکا ہے اور خطے کے امن کو غیر مستحکم کر رہا ہے اور افغانستان بھارت کی ایما پر پاکستان کیخلاف دہشت گرد کارروائیاں کر رہا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ رات کی تاریکی میں پاکستانی چوکیوں پرحملے انتہائی شرمناک اور بزدلانہ فعل ہے، لیکن پاک افواج کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ایاز صادق کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشتگردوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے، پاکستان نے ہمیشہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، پاکستان نے مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان کے تحمل اور برداشت کو کوئی کمزوری نا سمجھا جائے۔وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاک افغان سرحد پر کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ایک اور ہمسایہ بھی یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے منہ کی کھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم اس پراکسی وار میں بھی منہ کی کھائیں گے۔پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کردیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔پاک افغان سرحد پر کشیدگی پر وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک امن سے بات ہو رہی تھی تو ہم امن سے بات کر رہے تھے ، اب وہ بندوق سے بات کرنا چاہتے ہیں تو آگے سے گولے سے بات ہوگی۔

ہمارا ایک اور ہمسایہ بھی یہ ہتھکنڈے استعمال کرکے منہ کی کھا چکا ہے ، افغانستان میں کٹھ پتلی معاملہ چل رہا ہے ہم جانتے ہیں اس کے پیچھے کون ہے،افغان طالبان رجیم اس پراکسی وار میں بھی منہ کی کھائیں گے۔گولی چلے گی اور جہاں سے گولی چلے گی تو جنگ وہاں ہوگی، ہم امن پسند قوم ہیں امن سے رہنا چاہتے ہیں یہ شاید اس کو کمزوری سمجھتے ہیں۔دشمن کی طرف سے فیک ویڈیوز چلائی جارہی ہیں یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر تو نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے پاک فوج سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج کاافغان جارحیت کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز فیصلہ کن قدم ہے۔ عبدالعلیم خان کا کہناتھا کہ پاک فوج کے اس جرات مندانہ اقدام کی مکمل حمایت کرتے ہیں،افغان بارڈر سے دہشت گردی اور دراندازی کی کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں ،انڈین پراکسیزیادرکھیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف مہم جوئی کا حشربھارت جیسا ہو گا،قوم اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے افغانستان کی جانب سے دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم ہوش کے ناخن لے ورنہ انہیں صفحہ ہستی سیمٹادیں گے۔ کامران ٹیسوی نے کہا کہ افواج پاکستان نے افغان طالبان رجیم کواینٹ کا جواب پتھر سے دیا، فضائیہ اور بری فوج نے دشمن کی کمیں گاہیں نیست ونابود کردیں، افغانستان نے جنگ شروع کی، اختتام پاکستان کرے گا۔ گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ امریکاکو سوچنا ہوگاان کا چھوڑا گیا اسلحہ پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہاہے، پہلے بھی جارحیت کرنے پرافغاسنتان کو منہ کی کھانی پڑی تھی، اب بھی ایسا ہوگا۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہیکہ دشمن کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے قوم متحد ہے، پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے حوصلوں کو سلام پیش کرتے ہیں، وطنِ عزیز کی ایک ایک انچ زمین کا دفاع ہمارا قومی فریضہ ہے، سکیورٹی فورسز نے مثر جواب دے کر دشمن کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی