پشاور میں اوپن مارکیٹ میں فالج کے ایک انجکشن کی قیمت 80 ہزار روپے تک پہنچ گئی، انجکشن مہنگا ہونے کے باعث سرکاری اسپتالوں میں دستیابی ممکن نہیں۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری اسپتالوں میں فالج کے علاج کے لیے انتہائی ضروری انجکشن ٹی پی اے کی عدم دستیابی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث غریب مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ایم پی اے اعجاز خان کے سوال پر محکمہ صحت کی جانب سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں اس حوالے سے اہم دستاویزات پیش کی گئیں۔دستاویزات میں بتایا گیا کہ صوبے کے کسی بھی بڑے سرکاری اسپتال میں فالج کا یہ اہم انجکشن دستیاب نہیں ہے ، سرکاری سطح پر عدم دستیابی کے باعث عام مارکیٹ میں ایک انجکشن کی قیمت 80 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے
جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔محکمہ صحت نے اس حوالے سے اپنی مجبوری ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹی پی اے انجکشن اس وقت سینٹرل پرچیز لسٹ (CPL) میں شامل نہیں ہے، انجکشن کی قیمت حد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں اس کی مفت فراہمی یا دستیابی کو ممکن نہیں بنایا جا سکا۔طبی ماہرین کے مطابق فالج کے حملے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں یہ انجکشن مریض کو معذوری اور موت سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔سرکاری اسپتالوں میں اس کی عدم موجودگی اور مارکیٹ میں ہوشربا قیمت نے ہیلتھ کیئر سسٹم پر سوالیہ نشان کھڑے کر دئیے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی