پنجاب حکومت نے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی سے متعلق نئے قواعد متعارف کرا دئیے ۔ جن کا مقصد نظام میں شفافیت، نگرانی اور انتظامی بہتری لانا ہے۔نئی پالیسی کے تحت سرکاری گاڑیوں کے استعمال، الیکٹرک وہیکلز کی خریداری اور افسران کو الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔حکام کے مطابق یہ اقدامات سرکاری وسائل کے موثر استعمال اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کیلئے کئے گئے ہیں، جبکہ رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے عمل کو زیادہ منظم اور قابلِ نگرانی بنایا جائے گا۔سرکاری گاڑیوں سے متعلق نئے ضوابط کے الیکٹرک گاڑیاں خریدنے سے قبل محکمہ خزانہ سے پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔سرکاری گاڑیاں صرف گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو الاٹ کی جائیں گی۔افسران کے لیے ماہانہ پٹرول کی حد میں 25 لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر مالیاتی کنٹرول سے اخراجات میں شفافیت آئے گی
جبکہ گاڑیوں کی الاٹمنٹ کو مخصوص گریڈ تک محدود کرنے سے غیر ضروری استعمال کم ہوگا۔پالیسی کے تحت گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی کے طریقہ کار کو مزید مربوط اور یکساں بنایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف قانونی پیچیدگیاں کم ہوں گی بلکہ جعلسازی اور غیر قانونی ٹرانسفر کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات پنجاب میں ٹرانسپورٹ مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، جس سے عوامی سہولت میں اضافہ اور سرکاری نظم و نسق میں بہتری متوقع ہے۔یہ اقدامات انتظامی اصلاحات کے بڑے منصوبے کا حصہ قرار دئیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد سرکاری وسائل کے استعمال کو منظم کرنا اور شفاف حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔ تاہم، پالیسی کے عملی اثرات کا اندازہ اس کے نفاذ اور نگرانی کے طریقہ کار سے ہی لگایا جا سکے گا۔نئی پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہے، اور متعلقہ اداروں کو اس پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی