وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا ہے کہ پی ٹی آئی مسلح جدوجہد کی بات کر رہی ہے جبکہ پارٹی کی صورتحال دیکھ لیں ان میں اس کی صلاحیت نہیں ہے، اگر یہ جمہوری جدوجہد کریں تو اس سے ان کو کچھ مل بھی سکتا ہے اور معاملہ سلجھ بھی سکتا ہے لیکن اگر مسلح جدوجہد کی بات کریں گے تو انہیں قانون اور سخت ایکشن کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مسلح جدوجہد چاہتے ہیں اور وہ پارٹی اور لوگوں کو بھی یہی کہہ رہے ہیں، ماضی میں سیاسی جماعت 3 بار مسلح جدوجہد کر چکی ہے اور یہ 26 نومبر کو بھی یہی چاہتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی اور پارلیمانی پارٹی ہے مسلح جدوجہد کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اگر مسلح جدوجہد کی بات کریں گے تو قانون کے مطابق سلوک ہوگا
پھر شکوے کی ضرورت نہیں، مسلح جدوجہد پر یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایکشن نہ ہو۔وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ کوہاٹ جلسے کی تقریر سن لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ غلط ہو سکتے ہیں یا وہ، میں نے ان کو کہتے سنا ہے کہ اسلام آباد جائیں گے تو کفن میں یا آزادی لے کر واپس آئیں گے، یہ پتا نہیں کون سی اور کس سے آزادی لینا چاہتے ہیں؟۔کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلح جدوجہد یا اس قسم کا پاگل پن نہیں اپنا سکتی۔ پارلیمانی نظام پر جو حملہ کرتے ہیں کیا وہ فرینڈلی اپوزیشن ہے؟۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو ہونے والی سزا کے بارے میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیض حمید سے متعلق دیگر معاملات پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو سازش یا ادارے میں توڑ پھوڑ کے شواہد آئے تو بہت بڑا چارج ہوگا، اگر فیض حمید ملوث پائے گئے تو پھر وہ شواہد دیں یا نہ دیں جو ملوث ہوں گے یہ ان پر بڑا چارج ہوگا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی