i پاکستان

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں اب سیاسی لوگ ہیں جو اچھی بات ہے، ندیم افضل چنتازترین

December 17, 2025

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں اب سیاسی لوگ ہیں جو اچھی بات ہے،اب سیاستدان کم ازکم یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا، پہلی بار احتساب کا عمل خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، یہ فیلڈمارشل عاصم منیر ہی کرسکتے تھے۔ایک انٹرویو میں ندیم افضل چن کہا کہ افواج پاکستان میں پہلی بار کسی سینئر افسر کو سزا ہوئی۔ فیض حمید کے خلاف فیصلہ اچھا اور نیک شگون ہے۔انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے ساتھ گٹھ جوڑ میں شامل دیگر لوگوں سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیئے۔ اور فیض حمید کو سزا اچھی روایت ہے۔ آنے والوں کے لئے بھی یہ سبق ہے۔جتنا شفافیت سے کریں گے اتنا بہتر ہوگا، مثال کے طور پر مجھے یاد ہے کہ بریگیڈیئر عادل پنجاب کے سیکرٹری کمانڈر تھے، اسی طرح بریگیڈیئر مظفر رانجھا بھی رہے ہیں، یہ 2013 کے انتخابات کی انجینئرنگ میں ملوث رہے،جسٹس ثاقب نثار اور افتخار چوہدری ، یا الیکشن کمیشن کے لوگ ہوں، ان سب کا شفاف احتساب ہونا چاہئے۔ الیکشن میں مداخلت تو بالکل رہی ہے

موجودہ فوجی لیڈرشپ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ پہلی بار اتنی اہم سیٹ کے افسر کو سزا دی، اور احتساب کی مثال قائم کی، ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے۔احتساب موجودہ آرمی چیف عاصم منیر ہی کرسکتے ہیں اور کوئی نہیں کرسکتا۔احتساب کا ہونا ریاست، جمہوریت اور ریاستی اداروں کے لئے اچھی بات ہے۔ اب سیاستدان کم ازکم یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا۔ندیم افضل چن نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں اب سیاسی لوگ ہیں جو اچھی بات ہے۔ اور سیاسی لوگ جب فیصلہ کریں گے تو چیزیں بہتری کی طرف جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد قوم اکٹھی ہوئی جو تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن پی ٹی آئی اور ن لیگ کی لڑائی میں قوم تقسیم ہو رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ جس صوبے پر اتفاق ہے پہلے وہ بنا لیں۔ اور نئے صوبے بنانے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی تمام اکائیوں میں ریلیشن آئیڈیل نہیں۔ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس)پشاورکے بچوں نے پوری قوم کو اکٹھا کیا تھا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی