پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان پر بیرونی قرضوں کے حجم میں 3 برسوں کے دوران تقریبا 84 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 138 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ٹویٹ میں اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان پر بیرونی قرضوں کے حجم میں گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریبا 84 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 138 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔یہ اعداد و شمار اس امر کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ایس آئی ایف سی کے قیام کے باوجود ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، اور قومی معیشت بدستور بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا ملک میں نہ تو نئی صنعتوں کا قیام عمل میں آ رہا ہے بلکہ تشویشناک امر یہ ہے کہ پہلے سے قائم صنعتیں بھی بند ہوتی جا رہی ہیں، جس سے بے روزگاری اور معاشی جمود میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے برعکس، اگر موجودہ دور کا موازنہ 2018 سے 2022 کے عرصے سے کیا جائے تو کورونا وبا جیسے عالمی معاشی بحران کے باوجود پاکستان کو اربوں ڈالر کے بیرونی آرڈرز موصول ہوئے۔
ان آرڈرز کی تکمیل کے لیے فیصل آباد سمیت دیگر صنعتی مراکز میں فیکٹریاں شب و روز کام کرنے پر مجبور تھیں، جس سے برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسد قیصر کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت کی ترجیحات عوامی ریلیف اور معاشی استحکام کے بجائے شاہانہ اخراجات پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں۔ پنجاب میں کروڑوں کی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ پنجاب حکومت نے نئے تعلیمی اداروں کے قیام کی بجائے11 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی طیارہ خریدا۔دوسری جانب، اگر نیت، دیانت اور حکمتِ عملی درست ہو تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کی مثال بنگلہ دیش میں نگران حکومت کے دور میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں محمد یونس کی سربراہی میں محض 18 ماہ کے عرصے میں تقریبا 9.5 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ اکٹھا کیا گیا، جو موثر پالیسی سازی اور سنجیدہ قیادت کا عملی ثبوت ہے ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی