i پاکستان

پاکستان میں کرپٹو مائننگ جلد شروع ہوجائے گی، بلال بن ثاقبتازترین

December 18, 2025

پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ملک میں کرپٹو مائننگ چند ہفتوں میں شروع ہوجائے گی، بٹ کوائن مائننگ کیلئے بہت سی ٹیکنالوجیز آگئی ہیں، پاور پلانٹس کے ذریعے بٹ کوائن مائننگ کیلئے کارڈز لگائے جاسکتے ہیں۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ مائننگ کا پہلا فیز چند ہفتوں میں شروع کیا جائے گا، جس کے بعد لوگوں کے تمام تحفظات دور ہوجائیں گے۔ ہم مائننگ کی بدولت اضافی بجلی ڈالرز میں فروخت کر پائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ 2025 کی تجزیاتی رپورٹ میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے، سال 2018میں اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت جاری کی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کرپٹو کی ٹرانزکشنز کیلئے کوئی لیگل فریم ورک نہیں تھا، کرپٹو کی ٹرانزکشنز کیلئے حکومت پاکستان نے اتھارٹی بنائی ہے، کرپٹو کیلئے اتھارٹی کے ذریعے لائسنس رجیم کو فروغ دے رہے ہیں۔دنیا میں روبوٹکس یا کوانٹم جیسی نئی چیزوں کو کسی بھی نے غیرقانونی نہیں کہا جب نئی چیزیں پہلے سامنے آتی ہیں اس کے بعد حکومتیں اسے ریگولیٹ کرتی ہیں۔بلال بن ثاقب کے مطابق کرپٹو کرنسی بلاک چین کیلئے بھی اتھارٹی اقدامات کررہی ہے، دنیا میں آگے نہیں بڑھیں گے دوبارہ فیٹف کی گرے لسٹ میں جاسکتے ہیں۔

کرپٹو کرنسی کا رجحان پاکستان کی یوتھ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے، نوجوان ابھی سے2030میں جی رہا ہے،حکومت کا کام ہے ان کو مواقع فراہم کرے۔کرپٹو کرنسی کیلئے پی 2پی کے ذریعے بینکوں کا کردار بڑھانا چاہتے ہیں، جب تک لوگ 15،10ڈالر اضافی نہیں کمائیں گے پاکستان کو فائدہ نہیں ہوگا۔چاہتے ہیں لوگ سوچے سمجھے بغیر سرمایہ کاری نہ کریں بلکہ تجربات سے فائدہ اٹھائیں، ملکی وسائل کے ذریعے مائننگ کرکے پاکستان کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔مائننگ کی بدولت ہم اضافی بجلی کو ڈالرز میں فروخت کرپائیں گے، دنیا کا ہر بڑا ادارہ کرپٹو کرنسی کی طرف جارہا ہے، پاکستان اگر پیچھے رہ جائے تب مسئلہ ہے اور آگے جارہا ہے تو بھی مسئلہ ہے۔سنگاپور کی مثال ہے کہ انہوں نے حکومتی سیکیورٹی کا پائلٹ شروع کیا ہے، ہم آئی ایم ایف جانے کے بجائے پیسہ کیپٹل مارکیٹ سے اٹھا سکتے ہیں۔بٹ کوائن خریدنے کیلئے کئی ویڈیوز ہیں جس سے لوگ ایکسپوژر لے رہے ہیں، کرپٹو کرنسی ، روبوٹکس اور دیگر چیزوں سے پاکستان کی سالمیت کی اہمیت بڑھے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی