i پاکستان

ملک میں مغربی ہوائوں کا نیا سلسلہ داخل، 5اپریل تک مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سپیل شروع ہونے کا امکانتازترین

April 02, 2026

ملک میں مغربی ہوائوں کا نیا سلسلہ داخل ہو گیا جس کے باعث 5اپریل تک مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سپیل شروع ہونے کا امکان ہے،آزادکشمیراور بالائی پہاڑی علاقوں میں برف باری بھی متوقع ہے،محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث شمال مشرقی بلوچستان اور جنوبی خیبرپختونخوا کے ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، لہذا شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں ،دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بارشیں،ندی نالوں میں طغیانی نشیبی علاقے زیرآب آگئے،مختلف حادثات میں دو بچے جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوگئے جبکہ ایک سو سے زائد مکانات کونقصان پہنچاہے ، کراچی میں بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ پمپس میں اضافہ کر دیا گیا، بلدیاتی عملے کی چھٹیاں منسوخ اور تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ کر دئیے گئے ہیں۔ تفصیل کے مطابق محکمہ موسمیات نے 5 اپریل تک بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، گلگت بلتستان اور کشمیر کی بالائی وادیوں میں درجہ حرارت مزید کم ہونے کا امکان ہے، جبکہ مری، گلیات اور اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ آسمانی بجلی اور تیز ہواں کے باعث کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، بونیر، کوہستان اور مانسہرہ میں گرج چمک اور تیز ہواں کے ساتھ بارش کا امکان ہے، اسی طرح لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی آندھی اور بارش کی توقع ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب کی صورتحال کا سامنا ہے ،مختلف علاقوں میں 100مکانات کونقصان پہنچا،بارش اور سیلاب سے اب تک 2 بچے جاں بحق، 5 افراد زخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کاکہنا ہے کہ 400 ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا،بارش اورسیلاب سے50سے زائدمویشی ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں 4 اپریل تک بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق 4 اپریل تک ملک کے بیشتر حصوں میں تیز ہوائوں، گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان کے 30 سے زائد اضلاع اس نئے موسمیاتی سسٹم کی زد میں ہیں۔ خاص طور پر 18 اضلاع ایسے ہیں جہاں ندی نالوں اور پہاڑی سلسلوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔خضدار، قلات، سوراب، لسبیلہ، حب، کیچ اور گوادر میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش متوقع ہے جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ژوب، ہرنائی، لورالائی، زیارت اور شیرانی میں موسلادھار بارشیں ہو سکتی ہیں۔کوہلو، آواران، خاران اور مستونگ میں بھی تیز بارش اور سیلابی ریلوں کے امکانات موجود ہیں۔پی ڈی ایم اے نے عوام کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ متوقع بارشوں کے دوران تمام حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے مکمل اجتناب کریں، خاص طور پر ندی نالوں اور سیلابی راستوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ادھر خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اوربلوچستان کے متعدد اضلاع میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ بھی متوقع ہے جبکہ آزادکشمیراور بالائی پہاڑی علاقوں میں برف باری کا بھی امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا میں آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور ڈھانچوں بجلی کے کھمبے، بل بورڈز، سولر پینلز وغیرہ اورکھڑی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سیاح اور مسافر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دورانِ سفر خصوصی احتیاط برتیں ۔ خیبر، اورکزئی، کرم ، ہنگو، کوہاٹ، کرک، بنوں، وزیرستان جنوبی اور شمالی، ٹانک اور ڈی آئی خان کے اضلاع میں اکثر مقامات پر تیز ہوائوں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ کا امکان ہے۔چترال، دیر بالائی اور زیریں، باجوڑ، سوات، بونیر، مالاکنڈ، شانگلہ، کوہستان بالائی اور زیریں میں گرچ چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ کولائی پالس، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان،مہمند، پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے اضلاع میں تیز ہواں، آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش اور بلند پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران بعض مقامات پر ژالہ باری اور موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے

۔گزشتہ روز ڈیرہ میں 21 میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ پارا چنار میں 17 ملی میٹر اور بنوں مین 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ درجہ حرارت ڈیرہ اسماعیل خان میں 30 اور کالام میں کم سے کم 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں مختلف علاقوں میں آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، اولڈ سٹی ایم اے جناح روڈ، ملیر اور کورنگی سمیت دیگر علاقوں میں بادل برسے، ڈیفنس، شاہ فیصل کالونی اور دیگر علاقوں میں بھی ہلکی بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق 4 اپریل کے دوران کراچی، جامشورو، دادو، لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں بارش متوقع ہے، سکھر، خیرپور، کشمور، جیکب آباد ، مٹیاری ، تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین، ٹھٹھہ، حیدرآباد اور دیگر مقامات میں بھی بارش ہوسکتی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہر اور گردونواح میں بارش کی پیش گوئی ہے جس کے باعث حفاظتی بنیاد پر کچھ علاقوں میں بجلی سپلائی معطل کی جاسکتی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق بارش رکنے اور فیلڈ ٹیموں سے کلیئرنس کے بعد سپلائی بحال کی جاتی ہے۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے اپنے بیان میں کہا ہیکہ بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر بلدیاتی عملے کی چھٹیاں منسوخ اور تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ کر دئیے گئے ہیں۔

سلمان مراد نے بتایا کہ سائٹ، نرسری، اسٹیڈیم روڈ، کارسازا ور نیپا پر بھی ڈی واٹرنگ پمپس کی تنصیب کر دی گئی، ملینیئم مال، بروکس چورنگی اور دیگر مقامات پر اضافی پمپس لگا دئیے گئے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا بلدیہ عظمی کراچی کی اولین ترجیح ہے، پانی کے اخراج کیلیے چوکنگ پوائنٹس پر اضافی پمپنگ مشینری تعینات کر دی ہے۔ڈپٹی میئر کراچی کے مطابق مرکزی شاہراہوں اور اہم گزرگاہوں پر بلدیاتی عملہ تعینات کر دیا گیا، شہری بارش میں احتیاط کریں اور ہنگامی صورتحال میں فوری رابطہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمی تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں بارشوں کے پیشِ نظر سندھ حکومت الرٹ ہے، بارش سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل ہیں اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں سے پانی کے نکاس کے لیے اضافی ڈی واٹرنگ پمپس نصب کیے گئے ہیں۔شرجیل میمن نے کہا ہے کہ شہر کے چوکنگ پوائنٹس کی نشاندہی کر لی ہے اور نگرانی کے لیے عملہ تعینات ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے متعلقہ ادارے اور بلدیاتی اداروں کے افسران کو ہائی الرٹ رکھا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی