i پاکستان

محکمہ موسمیات کی مزید تیز بارش اور ژالہ باری کی پیشگو ئی ،ہنگامی الرٹ جاریتازترین

March 30, 2026

محکمہ موسمیات نے جڑواں شہروں سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مزید تیز بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات نے راولپنڈی، اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار کے لیے بارش کا ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ۔ الرٹ کے مطابق جڑواں شہروں میں تیز بارش، گرج چمک اور ژالہ باری کا قوی امکان ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی کے چند مقامات پر آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق بارش اور گرج چمک کا یہ سلسلہ صرف جڑواں شہروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مری، گلیات، کشمیر، اٹک اور ہری پور میں بھی بادل زور و شور سے برسیں گے۔اس کے علاوہ گوجر خان، صوابی، مردان اور گلگت بلتستان میں بھی ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔سوات، مانسہرہ، پشاور، کالام، دیر، چترال اور کوہستان میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے موسم کی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ خرابی کے پیشِ نظر شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

دو سری جانب بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث ژوب سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی مصروف قومی شاہراہ رات گئے ایک دل دہلا دینے والے سیلابی ریلے کا شکار ہوگئی۔گنڈی عاشق کے مقام پر ندی نالوں میں طغیانی سے سڑک زد میں آگئی جس کے نتیجے میں ٹریفک بالکل مفلوج ہو کر رہ گیا۔ رات بھر جاری تیز بارش نے علاقے کے خشک نالوں کو بھر دیا اور اچانک سیلابی پانی قومی شاہراہ پر اتر آیا۔گنڈی عاشق کا مقام، جو پہلے ہی قدرتی طور پر کمزور سمجھا جاتا ہے، اس بار پانی کی شدت سے مکمل طور پر ڈوب گیا۔عینی شاہدین کے مطابق پانی کی تیز رفتار لہریں گاڑیوں کے ٹائروں تک پہنچ گئیں اور کئی گاڑیاں پانی میں پھنس کر کھڑی ہو گئیں۔ جائے وقوع کا منظر دل دہلا دینے والا تھا جہاں ایک طرف ٹریفک کی لمبی قطاریں، جن میں بسیں، ٹرک، گاڑیاں اور موٹر سائیکلز شامل تھیں۔مسافر گاڑیوں سے باہر نکل کر ایک دوسرے سے حالات پوچھتے، بچے رو رہے تھے، خواتین پریشان تھیں اور بوڑھے لوگ تھکاوٹ سے بیٹھے ہوئے تھے۔

ہوا میں بارش کی بو، پانی کی آواز اور مسافروں کی بے چینی کا شور گونج رہا تھا۔ضلعی انتظامیہ، قومی شاہراہ اتھارٹی این ایچ اے اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ بھاری مشینری، بلڈوزر اور مزدوروں کی ٹولیاں لگائی گئی ہیں تاکہ پانی کو نکال کر روڈ کو جلد از جلد کھولا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مکمل نگرانی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ دوپہر تک ٹریفک بحال ہو جائے۔ تاہم، ابھی تک پانی کی سطح زیادہ ہے اور گاڑیوں کی آمدورفت ناممکن ہے۔حکام نے تمام مسافروں سے سخت اپیل کی ہے کہ وہ بغیر تصدیق کے اس روٹ پر نہ نکلیں۔ متبادل راستوں کا استعمال کریں۔ انتظامیہ کی جانب سے روڈ کھولنے کا کام تیزی سے جاری ہے جیسے ہی روڈ کھلنے کی تصدیق ہوگی، فوری طور پر اطلاع دی جائے گی۔انتظامیہ کے مطابق بارش کے موسم میں قومی شاہراہوں پر سفر کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں۔ موسم کی پیشگوئی چیک کریں، پانی والے علاقوں سے گریز کریں اور ہمیشہ تازہ ترین اپ ڈیٹس حاصل کرتے رہیں۔ محفوظ سفر آپ کی ذمہ داری ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی