i پاکستان

کراچی کی صنعتیں پانی بحران سے مفلوج، 1800 فیکٹریاں بندتازترین

February 11, 2026

کراچی میں سائٹ ایریا کے بعد کورنگی ٹریڈنگ زون کی فیکٹریوں میں بھی پانی کی فراہمی بند ہوگئی، جس کے باعث نہ صرف ملازمین بے روزگار ہوئے بلکہ مالکان بھی شدید متاثرہوئے۔ رپورٹ کے مطابق صنعتی علاقوں میں پانی کی بندش سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور کروڑوں ڈالرز کے آرڈرز بھی تعطل کا شکار ہوگئے۔سائٹ ایریا میں صنعتی سرگرمیوں کیلیے پانی کی یومیہ طلب 50 ملین گیلن ہے جبکہ وہاں پر واٹر کارپوریشن کی جانب سے صرف ایک سے دو ملین گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی میں شدید پانی کے بحران اور صنعتی سرگرمیوں پر منفی اثرات کے باعث کل ساڑھے چار ہزار میں سے 1800 فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں۔پانی کے بحران کی اس صورتحال نے شہر کی صنعتی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ہزاروں ملازمین کے روزگار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ صنعتی پیداوار میں کمی کے سبب ملکی برآمدات پر بھی بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر احمد عظیم نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سائٹ ایریا کے کارخانے چلانے کیلئے باقی ضرورت زیر زمین پانی سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار پوری کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دھابیجی کے مقام پر زیر زمین لائن پھٹنے سے کراچی بھر میں پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، ایسے میں انڈسٹریل ایریا میں بھی پانی نہیں مل رہا، اس کے ساتھ ہی اپنے مطالبات کے حق میں زیر زمین پانی سپلائی کرنے والوں نے ہڑتال بھی کر رکھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں پانی کے ٹینکر کا ریٹ سب سے زیادہ ہے اور مقامی حکومت نے سب سوائل والوں پر پانی کا جو ریٹ بڑھایا ہے اس کی وصولی وہ یقینی طور پر صنعتوں سے کریں گے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ خود انڈسٹریز کو ختم کرنا چاہ رہے ہیں۔احمد عظیم کے مطابق سندھ حکومت خاص طور پر میئر کراچی کو پانی کے بحران کے سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ سائٹ میں فیکٹریاں چلیں گی تو ملکی معیشت اگے بڑھے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی