وفاقی حکومت نے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم-2024 کے نفاذ کیلئے 16 اہل پنشن فنڈ مینیجرز (پی ایف ایمز) کا اعلان کر دیا ہے، جو نئے بھرتی ہونے والے وفاقی ملازمین کے لئے پاکستان کے شراکتی پنشن نظام کو فعال بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، منظور شدہ پنشن فنڈ مینیجرز نے وفاقی حکومت کے ساتھ باضابطہ معاہدے مکمل کر لئے ہیں، جس کے بعد وہ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم-2024 کے تحت پنشن کی شراکتیں منظم کرنے کے اہل ہو گئے ہیں۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے فیڈرل گورنمنٹ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم رولز 2024 کے تحت نیا پنشن سسٹم متعارف کروا دیا ہے، جس کے ذریعے روایتی پنشن نظام ختم کر کے شراکتی (کنٹری بیوشن) ماڈل نافذ کیا جائے گا۔
یہ اقدام ملک کے پنشن ڈھانچے میں ایک بڑی اصلاح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس نظام کے تحت وفاقی ملازمین کو اپنی پنشن کے لیے ہر ماہ رقم جمع کرانی ہوگی، جبکہ حکومت بھی ملازم کی جمع شدہ رقم کے ساتھ حصہ ڈالے گی۔ حکومت ہر ماہ ملازم کی قابلِ پنشن تنخواہ کا 12 فیصد جمع کرے گی اور ملازم اپنی تنخواہ کا 10 فیصد پنشن فنڈ میں جمع کرائے گا۔یہ رقم ایک فنڈ میں جمع ہوگی، جسے مختلف سرمایہ کاری منصوبوں میں لگایا جائے گا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ملازم کی پنشن اس فنڈ کے منافع پر مبنی ہوگی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی