i پاکستان

یہ جنگ نہیں مگر افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی،مشرف زیدیتازترین

February 28, 2026

وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہاہے کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کرنے کی ضرورت نہیں تاہم سرحد پار کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا، افغان طالبان نے اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں جو پاکستان کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔الجزیرہ کو دئیے گئے انٹرویو کے دوران وزیر اعظم کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ ۔وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو کھلی جنگ کی دھمکی دی ہے۔اس بارے میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ ہمیں جنگ کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ جنگ دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی ضرورت کے مطابق اقدامات کر رہا ہے تاکہ پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے عوام۔۔۔ کا افغان سرزمین سے آنے والی دہشتگردی سے دفاع کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف شدت پسندی کو افغان طالبان کی عبوری حکومت کی حمایت حاصل ہے۔اس سوال پر کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کیسے بحال ہو گا، مشرف زیدی نے کہا کہ ہم اعتماد قائم نہیں کریں گے بلکہ آگ کی دیوار تعمیر کریں گے تاکہ اپنی سرزمین اور عوام کو تحفظ دے سکیں۔انھوں نے کہا کہ افغان طالبان اور انڈیا کو اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کو دوحہ معاہدے کی شرائط پوری کرنا ہوں گی جن میں درج ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔مشرف زیدی نے مزید کہا کہ اگر افغان طالبان اپنی سرزمین پر شدت پسندی کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کریں گے تو یہ کام پاکستان کرے گا۔ ہم یہ (کارروائیاں) جاری رکھیں گے جب تک افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی