i پاکستان

غیر اخلاقی مواد سرچ کرنے میں پاکستانی مسلسل سرِفہرست،پی ٹی اے کی کارروائیوں سے ویوئر شپ میں کمی آئی ہے، ڈاکٹر مکرم علیتازترین

December 16, 2025

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مقرم علی نے کہا ہے کہ اگرچہ غیراخلاقی مواد سے متعلق آن لائن سرچز میں پاکستان اب بھی عالمی سطح پر سرفہرست ہے، تاہم غیراخلاقی مواد دیکھنے کے حوالے سے پاکستان اب پہلے نمبر پر نہیں رہا، پاکستان سائبر سیکیورٹی کی تیاری کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ ممالک میں شامل ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سائبر سیکیورٹی سے متعلق معقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ڈاکٹر مقرم علی نے کہا کہ پی ٹی اے کی جانب سے غیر اخلاقی ویب سائٹس کی بڑی تعداد کو بلاک کرنے کے اقدامات کے بعد واضح اثرات دیکھنے میں آئے ہیں اور اب پاکستان ایسے مواد کے ناظرین کی تعداد میں پہلے نمبر پر نہیں رہا۔انہوں نے بتایا کہ پہلے پاکستان غیر اخلاقی مواد دیکھنے کے لحاظ سے دنیا میں سب سے آگے تھا، لیکن مسلسل کارروائیوں اور قوانین پر عمل درآمد سے ملک کی پوزیشن نیچے آگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے بھی سرگرم عمل ہے اور تقریبا 13 لاکھ غیر اخلاقی ویب سائٹس بلاک کی جا چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے صرف غیر اخلاقی اور غیر مناسب مواد کو بلاک کرتا ہے اور خود سے کسی ویب سائٹ کو بند کرنے کے لئے پیشگی اقدامات نہیں کرتا۔ڈاکٹر مکرم علی نے عدالتوں کے متضاد احکامات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ کبھی کوئی عدالت کسی پلیٹ فارم کو بلاک کرنے کا حکم دیتی ہے تو دوسری عدالت اس کی ممانعت کرتی ہے۔ ایسی صورتوں میں پی ٹی اے قانونی اور انتظامی ضابطے کے مطابق عمل کرتا ہے۔انہوں نے وکی پیڈیا کی عارضی بلاکنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام پر عالمی سطح پر ردعمل آیا جس کے بعد ایک بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ مسئلے کا جائزہ لیا جا سکے۔ڈاکٹر مکرم علی نے واضح کیا کہ پی ٹی اے ویب سائٹس صرف حکومتی ہدایات پر بلاک کرتا ہے، اور یہ اقدامات سابقہ حکومتوں کے دوران بھی کیے گئے تھے۔سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مکرم علی نے کہا کہ پاکستان سائبر سیکیورٹی کی تیاری کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کے دوران پاکستان نے سائبر جنگ جیتی اور کوئی پاکستانی ویب سائٹ بھی آف لائن نہیں ہوئی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موبائل ٹیکس کا جمع کرنا پی ٹی اے کا کام نہیں، بلکہ یہ ذمہ داری فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی