پشاور ہائیکورٹ میں ہفتے میں 2 عدالتی چھٹیوں کے خلاف درخواست دائر کردی گئی۔درخواست اطلس خان ایڈووکیٹ نے سلیمان خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی، جس میں رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 12 مارچ کو پشاور ہائیکورٹ نے 3 دن عدالتیں بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جو عدلیہ کی آزادی اور فوری انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتیں ہفتے کے 7 دن اور 24 گھنٹے کھلی رہنی چاہییں تاکہ عوام کو بروقت انصاف مل سکے۔
ججز عوام کے خادم ہیں اور کام نہیں کریں گے تو تنخواہ کے حقدار نہیں ہیں۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں۔درخواست گزار کے مطابق ضابطہ فوجداری کے سیکشن 352 کے مطابق عدالتوں کے دروازے عوام کے لیے ہر وقت کھلے رہنے چاہئیے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 12 مارچ کو جاری کی گئی ہفتے میں 3 چھٹیوں کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے توانائی بچت اقدامات اور نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی ہدایات کے تحت ہفتے میں 3 چھٹیاں اور ججز کے فیول میں 50 فیصد کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی