i پاکستان

دہشتگردی کیخلاف جنگ کی پالیسی بنانے کیلئے کے پی اسمبلی کی قراردادوں پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا،اسد قیصرتازترین

February 11, 2026

پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کی پالیسی بنانے کیلئے کے پی اسمبلی کی قراردادوں پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا، غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا لیکن پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اپنے ایک بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ یومِ سیاہ میں خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ٹھیک ٹھاک لوگ نکلے۔ہم نے پرامن احتجاج کیا، کوئی پتھر نہیں پھینکا، کسی کی دکان زبردستی بند نہیں کروائی۔ پاکستانیوں نے ہمارا یومِ سیاہ کامیاب بنایا۔ حکومت نہ کسی کو احتجاج کرنے دیتی ہے نہ جلوس نکالنے دیتی ہے۔ صرف کراچی میں 377 ایم پی او کے آرڈر نکلے ہیں، 400 تک کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ہمارے سابق رکنِ قومی اسمبلی فہیم خان اور کراچی کے صدر راجا اظہر پر تشدد کیا گیا۔ہم نے کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی، کوئی قانون نہیں توڑا، پھر بھی اس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا۔

کیا اس ملک میں ہمارا کوئی حق نہیں۔ کیا جمہوریت ہمارا حق نہیں ہے۔ ہم سے ہمارا ووٹ چوری کیا گیا، ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، ہر پاکستانی کے ووٹ کی تذلیل کی گئی ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ پارلیمنٹ بنیادی طور پر پالیسی کا محور اور مرکز ہے۔ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا، پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔دہشتگردی کے خلاف جنگ کی جو پالیسی بنائی جا رہی ہے اور ہمارے صوبے کی صوبائی اسمبلی نے جو قراردادیں پاس کیں، اس پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ حتی کہ جو قومی جرگہ ہوا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی تھی، اس کی قرارداد کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ملک کے مستقبل کے فیصلے کہاں ہوں گے؟ یہ جو پارلیمنٹ ہے، اس پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ہم سمجھتے ہیں یہ فارم 47 کی پیداوار ہے، لیکن جو بھی فیصلے ہوں، اس کو کم از کم اس پارلیمنٹ میں تو زیرِ بحث لایا جائے۔ جب تک آپ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو حل نہیں کریں گے، تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی