ترجمان دفتر خارجہ طاہرانداربی نے کہا ہے کہ چناب کے بہائو میں اچانک تبدیلی ناقابل قبول ہے، عالمی برادری بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا نوٹس لے، افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن و سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستان کے موقف کی واضح تائید کرتی ہے،بونڈائی بیچ پر حملے میں را کے ملوث ہونے کی تحقیقات آسڑیلوی تحقیقاتی ایجنسیوں نے کرنی ہے، یروشلم پوسٹ نے پراپیگنڈا کیا، چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورہ امریکا سے متعلق رائٹرز کی خبر درست نہیں ہے،غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس سے متعلق پاکستان نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ان خیالات کاا ظہار انہوں نے اسلام آبادمیں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کیا ۔ ترجمان دفتر خارجعہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، دہشتگردوں کو افغان سرزمین پر معاونت ملنے کے قابلِ اعتماد شواہد ہیں، پاکستان کو دہشتگردعناصر کی حمایت سے متعلق انسانی اوردیگر انٹیلی جنس معلومات حاصل ہیں، دہشتگردوں کی تعداد، نام اورمالی معاونت سے متعلق معتبر رپورٹس موجود ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی چینلز فعال ہیں، دونوں ممالک کے سفیر اپنے اپنے دارالحکومتوں میں موجود ہیں، دوطرفہ معاملات سفارتی ذرائع سے زیرِ بحث آتے رہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں ہونے والی علاقائی میٹنگ میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی پر بات ہوئی، اجلاس میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروہوں کامعاملہ وسیع تناظر میں زیرِ بحث آیا، تہران میں ہمسایہ ممالک کیخصوصی نمائندوں کا اجلاس علاقائی میکنزم کا حصہ تھا، علاقائی میکنزم اتفاقِ رائے اور مشاورت کے لیے اہم ہیں۔ طاہر اندرانی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، دہشتگرد گروہوں کی موجودگی افغانستان میں داخلی استحکام اورترقی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں، رپورٹ میں ٹی ٹی پی اور دیگر غیرملکی دہشتگرد عناصر کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستان کے موقف کی واضح تائید کرتی ہے، دہشتگرد عناصر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے موقف کو عالمی سطح پر پیش کر رہا ہے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے کوشاں ہے، پاکستان کی جانب سے افغان عوام کے لیے امدادی قافلہ روانہ کیا گیا تھا تاہم افغانستان اس کو وصول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ترجمان کے مطابق غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے حوالے سے بعض عالمی دارالحکومتوں میں مشاورت جاری ہے مگر پاکستان کو اس معاملے پر کسی مخصوص درخواست سے آگاہ نہیں کیا گیا اور اس فورس سے متعلق پاکستان نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ترجمان نے آسٹریلیا میں فائرنگ کے واقعے پر کہا کہ بونڈائی بیچ حملے کی تحقیقات آسٹریلوی حکام کر رہے ہیں، اس حملے سے پاکستان کو جوڑنا افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے، ایک پاکستانی کا نام اور تصویر بغیر تصدیق میڈیا پر دکھائی گئی جس کے باعث غلط رپورٹنگ سے ایک بے گناہ فرد اور اس کے خاندان کو خطرات لاحق ہوئے، بھارتی میڈیا نے واقعے پر غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا مگر بعد میں حملہ آور بھارتی نژاد اور بھارتی پاسپورٹ ہولڈر نکلا۔ترجمان دفتر خار جہ نے کہا بھارتی اقدامات خطے کے امن واستحکام کے لیے خطرہ ہیں، دریاں سے متعلق کوئی یکطرفہ اقدام قابل قبول نہیں، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی قوانین موجود ہیں، دریائے چناب کے بہائو میں اچانک تبدیلی تشویشناک ہے،عالمی برداری کو بھارت کی جانب سیسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا نوٹس لینا چاہئے۔طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ دسمبر سے دریائے چناب میں پانی کی سطح میں غیرمعمولی اتارچڑھا ئو دیکھا گیا، بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع پانی چھوڑنے پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے رابطوں کے حوالے آفیشل چینلز موجود ہیں، اگر افغان حکومت تہران میں نمائندے بھیجتی تو شاید کوئی بات چیت ہو سکتی، بھارت میں جوہری شعبہ میں نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کی رپورٹس اور بھارتی وزیراعظم کا بیان دیکھا، بھارت کا سابقہ جوہری ریکارڈ اور جوہری مواد کی چوری کو دیکھتے ہوئے اس معاملے پر تحفظات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ریاست بہارکے وزیراعلی کے مسلم خاتون ڈاکٹر سے ہتک آمیز سلوک کی مذمت کرتے ہیں، بھارت میں اقلیتوں کو نارواسلوک کاسامنا ہے، بھارتی حکومت اقلیتوں کے حقوق خصوصا مذہبی آزادی کا تحفظ یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ ایک سینئر سیاسی رہنما کی جانب سے ایک مسلمان خاتون کا حجاب زبردستی اتارنا اور اس کے بعد اس عمل پر عوامی تمسخر انتہائی تشویشناک ہے اور سخت مذمت کا تقاضا کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام انڈیا میں مسلمان خواتین کی تذلیل کو معمول بنانے کی جانب بڑھنے کی کڑی بن سکتا ہے
یہ رویہ انڈیا کی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص اس کے مسلم شہریوں، کے لیے عوامی بد سلوکی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی روسی صدر ہوٹن ملاقات مثبت رہی، اس ملاقات میں تاخیر کی خبر بھارت میں موجود نیوز ایجنسیوں کی جانب سے جاری کی گئی، ان کا مقصد پاکستانی قیادت کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا تھا، بعد میں ان بھارتی نیوز ایجنسیوں کی جانب سے تاخیر پر مبنی سوشل میڈیا ٹویٹ ہٹا دئیے گئے۔ ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورہ امریکا سے متعلق رائٹرز کی خبر درست نہیں ہے۔ ترجمان سے سوال کیا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل کے دورہ امریکا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی میڈیا رپورٹس پر وہ کیا کہیں گے؟۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں، ہمارے پاس ایسے کسی دورے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں؛ چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے سے متعلق رائٹرز کی خبر درست نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی دورے کی منصوبہ بندی یا حتمی فیصلے سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیں ہیں، سرکاری دوروں کا اعلان حکومتِ پاکستان باضابطہ طور پر کرتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی