بلوچستان کے ضلع چاغی میں تفتان بارڈر کے قریب گیس سے بھرے بازر میں آگ لگنے کے بعد زوردار دھما کے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ اسسٹنٹ کمشنر تفتان سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق واقعہ تفتان بارڈر کے قریب پیش آیا جہاں اچانک گیس بازر میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کی شدت میں اضافے کے باعث بازر میں زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے باعث آگ کے بڑے شعلے اتنے بلند ہوئے کہ کئی کلومیٹر دور سے بھی نظر آئے۔ڈپٹی کمشنر چاغی جہانزیب شاہوانی کے مطابق دھماکے میں 4 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی مرکزِ صحت منتقل کر دیا گیا۔ جہاں ایک زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ۔ متوفی کی شناخت منور علی کے نام سے ہوئی ۔ جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے دو زخمیوں کو کوئٹہ ریفر کردیا گیا ۔انہوں نے تصدیق کی کہ اسسٹنٹ کمشنر تفتان نعیم قاسم بھی دھماکے کی زد میں آ کر زخمی ہوئے تاہم وہ زخمی ہونے کے باوجود جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر کارروائیاں کر دی ہیں ۔ فائر بریگیڈ عملہ آگ بجھانے میں مصروف ہے ۔انہوں نے کہا کہ دھماکے میں مزید افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشنز جاری ہیں ۔ جہانزیب شاہوانی نے مزید کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پلانٹ میں ایران سے لائے گئے ایل پی جی ٹینکرز کو خالی کیا جاتا ہے۔ یہ آبادی کے قریب ہے جس کی وجہ سے نقصانات کا خدشہ ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق دھماکے کے بعد آگ کافی حد تک پھیل گئی ہے جس پر قابو پانے کے لیے مقامی انتظامیہ، پولیس، فرنٹیئر کور( ایف سی)، این ایل زی اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر آپریشن میں مصروف ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دالبندین سمیت ضلع بھر سے ایمبولینسز روانہ کر دی گئی ہیں جبکہ اب تک کم از کم چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جن کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی