i پاکستان

بانی پی ٹی آئی مسلح جدوجہد پر تلے ہیں، اگر یہ طریقہ اپنایا گیا تو پھر ایکشن ہو گا،رانا ثنا اللہتازترین

December 18, 2025

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی مسلح جدوجہد پر تلے ہیں، اگر یہ طریقہ اپنایا گیا تو پھر ایکشن ہو گا، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہر ہفتے دھرنے دے کر خبروں میں آنا چاہتی ہیں، یہ لوگ رولز کے مطابق ملاقات کرنا چاہتے ہی نہیں،آئین و قانون کے مطابق ہی فیصلے کیے جائیں گے۔ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھائی سے ملاقات کیلئے نہیں، دھرنے کے لئے جاتی ہیں، ملاقات کیلئے جائیں تو ملاقات کروائی بھی جائے، یہ ہر ہفتے دھرنے دے کر خبروں میں آناچاہتی ہیں۔مشیرِ وزیراعظم نے کہا کہ آئین میں ملاقات کیلئے رولز واضح ہے، یہ لوگ رولز کے مطابق ملاقات کرنا چاہتے ہی نہیں، ہائی کورٹ نے بھی ان کو پریس کانفرنسزکیلئے منع کیا، یہ لوگ رولز کی منافی نہ کریں تو ان کے لیے بھی آسانی ہو جائے، مریم نواز نے تو کبھی پریس کانفرنس نہیں کی ملاقاتوں کے بعد۔راناثنا اللہ نے کہا کہ میںنے ساڑھے چھ سال جیل گزاری، میں نے تو کبھی جیل میں بیٹھ کر ٹویٹ نہیںکئے ، میںنے یتوجیل میں بیٹھ کرپاکستان کیخلاف مضمون نہیں لکھوائے، اقوام متحدہ کے لوگوں کے بیانات آسمانی صحیفے نہیں ہوتے۔انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کے غزہ کے معاملے میں تو بیان کبھی نہیں دیکھے، ان لوگوں کو پتا ہے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں کس طرح سے رکھاگیا ہے، انہوں نے جو بیان دیا ہے کس سے سنا ہے؟۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کمیٹی کی سربراہی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا

اس کمیٹی کی تجویز محترمہ مشعال نے دی تھی، آئین میں ایسی کمیٹی بنانے کی اجازت نہیں ہے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو بالکل ویزہ ملنا چاہیے، بیٹے اگر ملاقات کیلئے آ رہے ہیں تو ضرور آئیں، یہ اگر سیاست کے لیے آئے تو پھر حکومت آئین کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ محموداچکزئی قوم پرست رہنما ہیں، محمود اچکزئی نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی ہے، پی ڈی ایم میں بھی محمود اچکزئی نے بہت جدوجہدکی۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 11سال بعد بھی ہم سانحہ اے پی ایس کی مذمت کر رہے ہیں، دہشتگرد کیڈٹ کالج میں بھی سانحہ اے پی ایس جیسا واقعہ کرنا چاہتے تھے مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہو نے کہا کہ ، قوم نے دہشتگردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے،جودہشتگردوں سے بات کا درس دے رہے ہیں ان سے بھی آہنی ہاتھوں سے بات کرنی چاہیے، 11سال پہلے قوم کسی ایک بات پر متفق نہیں تھی، 11سال پہلے اچھے اور برے طالبان کی باتیں ہوتی تھیں، پہلے قوم دہشتگردی کے خلاف یکسو نہیں تھی، سانحہ اے پی ایس کے بعد قوم ایک ہوئی،پھردہشتگردی ختم ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ابہام پیدا کیا گیا،دوبارہ دہشتگردوں کو واپس لایاگیا، کن لوگوں نے دہشتگردوں سے مذاکرات کا فیصلہ کیا آج کیوں کہا جا رہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن نہیں ہونا چاہیے، آج کیوں کہا جا رہا ہے کہ دہشتگردوں سے بات کرنی چاہیے،یہی چیز ابہام پیدا کرتی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی